اسلام آباد(نیوزڈیسک) کنوینر ورلڈ مینارٹی الائنس، نوبل پیس پرائز کے لئے نامزد امیدوار اور سابق وفاقی وزیر بے سالک نے کہا ہے کہ اقلیتوں کو انتخابات سے دور رکھا جارہا ہے، آزادامید وار کا جھانسہ دے کر اقلیتوں کو لولی پاپ دینے کی کوشش کی جارہی ہے،خلیل جارج فرانس مسلم لیگ ن کے پارلیمانی سیکرٹری رہ چکے ہیں، انہیں فوری طور پر کام سے روکا جائے، کوئی بھی رکن سیکریٹ بیلٹ پیپر سے منتخب ہوئے بغیر قومی اسمبلی کا حصہ نہیں بن سکتا،انتخابات کے حوالے سے اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیرجے سالک کا کہنا تھا کہ ہمیں موجودہ الیکشن سے باہر رکھا گیا ہے کیوں کہ آئین کے آرٹیکل 226 کے مطابق کوئی بھی رکن سیکریٹ بیلٹ پیپر سے منتخب ہوئے بغیر قومی اسمبلی کا حصہ نہیں بن سکتا، اس لئے آئین کی رو سے قومی اسمبلی کی ستر نشستیں غیر قانونی ہیں ، جس میں ساٹھ نشستیں خواتین کی اور دس اقلیتوں کی ہیں، یہ آئین اور جمہوریت دونوں کی خلاف ورزی ہے،انکا کہنا تھا کہ آزاد امیدوار کا جھانسہ زیادہ اس لئے نہیں چل سکتا کہ جو آج آزاد امیدوار ہیں وہ تین دن کے اندر اندر کسی نہ کسی پارٹی کا حصہ ہوں گے نہیں تو وہ نا اہل ہو جائیں گے، جے سالک نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن عوام کو اس ڈرامے سے آگاہ کرے کیوں کہ یہ عوام کا حق ہے کہ جس امید وار کو آزاد سمجھ کر منتخب کر رہے ہیں وہ کل شاید اس پارٹی کا حصہ ہو جسے وہ بالکل پسند نہیں کرتے، انہوں نے کہا کہ میں اپنے تین دفعہ کے دور وزارت میں بطور آزادامید وار ہی کام کرتا رہا، حالانکہ اس دور میں بھی آزادامید وار کے پاس یہ چوائس موجود تھی کہ وہ آزادر ہے یا کسی پارٹی کا حصہ بن جائے اور ہر آزادامید وار بھاری اکثریت رکھنے والی پارٹی کا حصہ بننے کی چوائس بھی رکھتا تھا، انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی الیکشن کمیشن کو خلیل جارج فرانس کے والے سے ایک خط لکھ کر بتایا تھا کہ وہ مسلم لیگ ن کی گڈ بک میں ہیں کیوں کہ وہ ان کے پارلیمانی سیکرٹری رہ چکے ہیں اس لئے انہیں نگران حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہیے لہذا انہیں فوری طور پر کام سے روکا جائے لیکن تا حال ایسا نہیں ہو سکا ، آج پھر ہم ان کا اسی حوالے سے دوسرا خط بھیج رہےہیں۔















