اسلام آباد( اے بی این نیوز ) وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس، ذیلی ادارہ پاک پی ڈبلیو ڈی کے چیف انجینئر نارتھ انوار الحق ڈوگر کے سیپ پروگرام کے پروجیکٹس میں بھی چارج شیٹ کیے جانے کی دستاویز سامنے آ گئی، ایکسیئن بٹ خیلہ ڈویژن خضر حیات، نجی کمپنیز اور چیف انجینئر کی ملی بھگت سے کے پی کے کے متعدد اضلاع میں جعلی کال ڈیپازٹس پر ورک ایوارڈ کیے جانے کا انکشاف، چارج شیٹ میں ملی بھگت سے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے بدعنوان عناصر کیخلاف انضباطی کاروائی کی سفارش۔ سزا تو دور کی بات وزارت ہاوسنگ اینڈ ورکس مبینہ جعل سازی کے مرکزی کردار ایکسیئن خضر حیات اور چیف انجینئر نارتھ پر پہلے سے بھی زیادہ مہربان ہو گئی۔ انوارالحق ڈوگر کو ڈی جی جبکہ خضر حیات کو چار ماہ کی معطلی کے بعد پہلے گوجرانوالہ ڈویژن جبکہ ابھی ایک بار پھر بٹ خیلہ ڈویژن کا چارج دیدیا گیا۔ زرائع وزارت ہاوسنگ کے مطابق کرپٹ مافیا کی پشت پناہی جوائنٹ سیکرٹر ہاوسنگ کر رہے ہیں تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع دیر، سوات، چترال اور باجوڑ میں سیپ پروگرام کی بائیس سو ملین سے زائد لاگت کی سینتالیس کام جعلی کال ڈیپازٹس پر ایوارڈ کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ا اے بی این نیوز کو موصول سابق ڈائریکٹر جنرل کے دور میں ہونے والی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایکسیئن، کنٹریکٹرز اور چیف آفس کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو بائیس ملین سے زائد کا ٹیکہ لگایا گیا ہے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق فیک ٹینڈر پروسیس میں جعلی سی ڈی آرز پر چیف انجینئر نارتھ نے ورک ایوارڈ کیے ہیں۔ سائٹ میرمنٹ بکس میں جعلی پیمائشیں ڈال کر بوگس پیمنٹس کی گئی ہیں۔ متعدد اسکیمز ایسی ہیں جن کا سائٹ پر نام و نشان نہیں ہے۔ ملی بھگت سے قومی خزانے نقصان پہنچانے والوں کیخلاف سخت تادیبی کاروائی کی سفارش بھی کی گئی۔ سابق ڈی جی نے چیف انجنئر نارتھ انوارالحق ڈوگر کو فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی بنیاد پر چارج شیٹ کرتے ہوئے کیس تحقیقاتی اداروں کیساتھ ساتھ منسٹری بھجوایا۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے ملی بھگت کے اس کیس میں انوارالحق ڈوگر فرائض منصبی کی ادائیگی میں نہ صرف ناکام رہے بلکہ بدعنوان عناصر کیخلاف کوئی بھی کاروائی نہیں کر پائے ہیں۔ نارتھ زون کی اتھارٹی یا تو نااہل ہے یا پھر جعلسازی اور خزانے کے نقصان میں شریک ملزم ہیں۔ چارج شیٹ کے مطابق جعلسازی کا یہ عمل ان کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ وزارت ہاوسنگ اینڈ نے ذمہ داران کے انضباطی کاروائی کرنے کی بجائے انوارالحق ڈوگر کے چیف کیساتھ ڈی جی سمری منظور کروا لی جبکہ ملوث ایکسیئن چارج شیٹ ہونیکے بعد چار ماہ معطل رہا، ڈی جی آفس سے “ایبسکانڈر” قرار پایا، اس کے باوجود اسے الیکشن کمیشن سے پہلے گواجرانوالہ اور اب ایک بار پھر بٹ خیلہ ڈویژن میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ڈی جی آفس پی ڈبلیو ڈی سے سابقہ دور میں دستاویزی ٹبوت کے ساتھ وزارت میں جانے والی کسی بھی چارج شیٹ پر کوئی ایکشن نہیں ہوا ہے۔ منسٹری ثبوتوں کی موجودگی میں کلین چٹ کے ساتھ ساتھ من پسند پوسٹنگ بھی دے دیتی اس حوالہ سے ایکسین بٹ خیلہ سے رابطہ کیا گیا انہوں نے کوئی جواب نہ دیا















