واشنگٹن ( اے بی این نیوز )امریکا کی جانب سے جاری کی گئی انسانی حقوق سے متعلق سالانہ رپورٹ سامنے آگئی ،رپورٹ میں مودی کے زیر قیادت بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں، اختلاف رائے رکھنے والے افراد اور صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات شامل ہے۔امریکا بھارت میں بعض سرکاری حکام، پولیس اور جیلوں کے نگرانوں کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق قریبی اقتصادی تعلقات اور خطے میں چین کے مقابلے کے لیے امریکا کے لیے بھارت کی اہمیت کافی زیادہ ہے۔اس لیے عام طور پر بھارت پر امریکی تنقید کم ہی ہوتی ہے،بھارت میں انسانی حقوق کے اہم مسائل میں حکومت یا اس کے کارندوں کی جانب سے ماورائے عدالت قتل کی مصدقہ رپورٹس شامل ہیں،شہریوں پر تشدد، ان کے ساتھ غیرانسانی یا توہین آمیز سلوک، پولیس اور جیل حکام کی طرف سے سزا دینے، سیاسی قیدی بنانے اور نظر بندیوں سمیت صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں کا حوالہ دیا گیا ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے تحت حالیہ برسوں میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں،ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندو قوم پرست حکمراں جماعت نے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مذہبی منافرت کو بڑھایا ہے،بھارتی حکومت کی پالیسیاں اور اقدامات مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں ، مودی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی ہندو قوم پرست حکمراں جماعت نے 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مذہبی منافرت کو بڑھایا ہے،مودی حکومت کے ناقدین 2019 کے پڑوسی ممالک کے مسلمان تارکین وطن کو نکالنے والے شہریت کے قانون کا حوالہ دیتے ہیں جسے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بنیادی طور پر امتیازی قرار دیا ہے۔















