واشنگٹن ( نیوزڈیسک)امریکا پر قرضوں کا بوجھ اپنی آخری حد کو پہنچ گیا جس کے بعد ڈیفالٹ کے سائے وائٹ ہاؤس کے سر پر منڈلانے لگے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے سٹی مئیرزکی ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ اگر امریکا قرضوں پرڈیفالٹ ہوا توملک کی مالیاتی تاریخ میں بدترین تباہی ہوگی۔صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ایوان نمائندگان کے اسپیکرکیون مک کارتھی سے اس مسئلہ پربات کررہے ہیں تاکہ قرض لینے کی حد بڑھائی جاسکے۔امریکی حکومت قرض لینے کی آخری حد یعنی 31.4 ٹریلین کو پہلے ہی چھوچکی ہے اور حکومت کو مزید قرض لینے کے لیے کانگریس کو آمادہ کرنا ہوگا۔امریکی سیکریٹری خزانہ جینیٹ یلن کے مطابق حکومت نے ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس سے 5 جون تک ڈیفالٹ کا خطرہ ٹالا جاسکے گا۔سکریٹری خزانہ جینیٹ یلن کا کہنا ہے کہ کانگریس کو ایک حل پر بات چیت کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہونا پڑے گا بصورت دیگر امریکا جون کے اوائل سے پہلے ڈیفالٹ کرجائے گا۔















