اہم خبریں

باجوڑ ،جے یو آئی ف ورکرز کنونشن دھماکا،45 جاں بحق ،150سے زائد زخمی

پشاور( اے بی این نیوز ) باجوڑ کے صدر مقام خار میں جے یو آئی ف کے ورکرز کنونشن میں دھماکہ45ا افراد جاں بحق جبکہ150سے زائد افراد زخمی ہو گئے،جاں بحق ہو نے والوں میں خار کے امیر بھی شا مل ،سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقہ کو گھیرے میں لے لیا ، لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ورکرز کنونشن میں بڑی تعداد میں لو گ موجود تھے،ترجمان جے یو آئی ف اسلم غوری نے کہا ہے کہ ہم اس واقعہ کہ مذمت کرتے ہیں اور یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے۔ الیکشن سے قبل یہ بڑی تشویش ناک صورتحال ہے۔ پولیس نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہو ئے تبایا کہ دھماکے کی جگہ جے یو آئی ف کا ورکرز کنونشن ہو رہاتھا، پولیس نے کنفرم کیا کی جاں بحق ہو نے والوں میں مولاناق ضیا اللہ جان بھی شامل ہیں، ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکہ خار میں نادرہ کے آفس کے سامنے ہوا، امدادی کارروائیان جاری ہیں زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے، جہاں چند ذخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شراع کر دیا ہے،زخمیوں کو پشاور منتقلی کیلئے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر بھی فراہم کر دیا ہے، حافط حمداللہ نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق ہمارے دس سے بارہ ورکرز شہید ہو ئے ہیں، مولانا فضل الرحمان، آصف ٖ علی زرداری ،بلاول بھٹو،سراج الحق سمیت سب نے دھماکے کی مذمت کی ہے۔فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے پی سے اس افسوس ناک دھماکہ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے باجوڑ میں سیاسی اجتماع میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں 35 کے قریب شہریوں کے جاں بحق اور 200 کے قریب زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، دھماکے میں قیمتی جانی نقصان پر دلی دکھ اور افسوس ہے، نگران صوبائی وزیرنے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی،دکھ کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں،نگران وزیراعلی نے واقعہ کا نوٹس لے کر فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے،دھماکے کے زخمیوں کو طبی امداد کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے،قریبی اضلاع کی ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے،صوبائی حکومت دہشتگردی کے خاتمے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔

متعلقہ خبریں