اہم خبریں

چیئرمین سینیٹ نے پر تشدد انتہا پسندی کی روک تھام کا بل 2023 ڈراپ کر دیا

اسلام آباد (  اے بی این نیوز  )پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام سے متعلق بل کیخلاف سینیٹ میں اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعتیں یک زباں ہو گئیں،بل کو جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کیلئے شکنجہ قرار دیدیا۔اتحادی جماعتوں کی بل کی شدید مخالفت احتجاج اور واک آؤٹ کی دھمکی کام کر گئی ۔۔چیئر مین سینیٹ نے حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے احتجاج اور شدید مخالفت پر کاروائی روکتے ہوئے پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام سے متعلق بل کو ڈراپ کر دیا، سینیٹ اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزیر مملکت قانون شہادت اعوان نے پیش کیا تو حکومتی اتحادی جماعتوں سمیت اپوزیشن نے ا اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر بل کی شدید مخالفت کی ۔پررتشدد انتہاپسندی سے متعلق بل کی مخالفت کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ 33 کلازز اور 34 صفحات کا بل صرف پی ٹی آئی نہیں تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے۔یہ جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ اس بل کے تحت پارلیمنٹ کے زریعے جمہوریت کی تدفین کرائی جا رہی ہے۔حکومت نے اتحادیوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔کل یہ بل تمام جماعتوں کے گلے پھندا بنے گا۔۔مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ آج انتہائی اہم بل پیش کیے جارہے ہیں۔پرتشدد انتہاپسندی کی روک تھام بل 2023 اہمیت کا حامل ہے۔اس بل کو پاس کرنے سے پہلے کمیٹی میں پیش کرنا چاہئے تھاکل کو کوئی بھی اس بل کا شکار ہوسکتا ہے۔ابھی جلد بازی میں بل پاس ہورہا ہے۔ کل کہا جائے گا بل پاس ہورہا تھا تو آپ کہاں تھے۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بل کے حوالے سے معزز سینیٹرز کے اعتراض جائز ہے ۔کمیٹیوں میں بل رک جاتے ہیں شاید اس لیے تھوڑی عجلت ہوئی ہے۔اسمبلی ختم ہونے والی ہے اس لیے بل لائے جارہے ہیں۔اسمبلی کی مدت ختم ہوتے ہی قانون سازی نہیں ہوسکے گی۔آپ سب کے پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔اگر جلدی میں ایسا ہوا ہے تو کوئی ممانعت نہیں ہے۔ماضی میں بھی ہفتہ، اتوار کو اجلاس بلائے گئے ہیں۔سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ اتوار والے دن اجلاس بلاکر اتنے ایک بل پاس کیے جارہے ہیں۔ان بلوں کو پہلے کمیٹی میں ریفر کیا جائے۔قائدے اور قانون کے مطابق بل پاس کیے جائیں۔۔ انہوں نے کہا کہ اہم قانون سازی پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا دو اتحادی جماعتیں مل کے سب فیصلے کر رہی ہیں انہوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر بل منظور کیا گیا تو احتجاج کیساتھ واک آؤٹ بھی کرینگے۔۔پی ٹی آئی سینیٹرسیف اللہ ابڑو نے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جوبل پیش کرے اس میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیے کہ وہ خودبھی اس پرعمل کرے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر ہمایوں مہمند نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے کہ اس بل کی ہر شق سے تحریک انصاف کیخلاف استعمال ہونے کی بو آ رہی ہے یو لگتا ہے وزیر داخلہ یہ بل اس لیے بنایا کہ تحریک انصاف کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جا سکے۔۔ جے یو آئی ف کےکامران مرتضی کوسلام پیش کرتاہوں جنہوں نے خواتین کی عزت کی بات کی۔جس سینئرممبرنے خواتین کے بارے میں نامناسب الفاظ کہے وہ شخص اس دن ہاوس میں موجود تھا لیکن اس نے معافی نہیں مانگی۔سینیٹرسیف اللہ ابڑو نے نے کہا کہ پی ٹی آئی سینٹرز یہاں موجود ہے ہم نے خواتین کے بارے میں کبھی ایسا نہیں کہا۔اس عمر میں سینئر سیاستدان خواتین بارے ایسے الفاظ استعمال کر رہا ہے۔نوازشریف اس قسم کے بیانات کا نوٹس کیوں نہیں لیتے۔ہمیں بھی گالیاں دینی آتی ہیں لیکن یہ حرکت خود ایک گالی ہے۔سینیٹرعبدالغفور حیدری نے کہا کہ جمیعت علماء اسلام بھی اس بل کی مخالفت کرتی ہے، اگر بل پاس کیا گیا تو جمیت علماء اسلام سینیٹ سے واک آؤٹ کردے گی۔ پاکستان سمجھ نہیں اتا چھٹی والے دن اجلاس کیوں بلایا گیا۔شکر ہے کہ 10 محرم والے دن اجلاس نہیں بلایا گیا۔چیئرمین سینیٹ نے تدارک پرتشدد انتہاپسندی بل پر مزید کارروائی روک دی۔ چیئرمین صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ یہ بل منظور کرنے کے لیے اجلاس نہیں بلایا۔آپ سب اس بل پر متفق نہیں۔حکومت جو مرضی ہے کرے میں بل کو ڈراپ کرتا ہوں۔

متعلقہ خبریں