اسلام آباد ( ) ہم نے آئی ایم ایف کے پروگرام کو مجبوری کے طور پر قبول کیا، ہم نے سیات کو داو پر لگایا اور ریاست کو بچایا،آئی ایم پروگرام ہمارے لئے کو ئی حلوہ نہیں بہت سخت پروگرام ہے، ہم نے چینکے ساتھ ایک اور پاور پلانٹ کا سودا کیا، نوز دور میں جو نیو کلئر پاور پلانٹ لگے اسی دور میں اس پلانٹ کی بھی بات کی تھی ،اس دور میں اس پاور پلانٹ کی جو قیمت طے کی تھی اس سے ایک پا ئی بھی فالتو نہیں لی، ہم قامی خدمت کر رہے ہیں ،کیا یہ خدمت ہو تی ہے کی چار سال چور چور کہتے رہے اور خانہ کعبہ ماڈل والی گھڑی بیچ دی، کیا یہ ترقی تھی، میرے یا نواز دور میں ایسی قبیح حرکت ہو تی تو یہ ہمیں چھوڑتا، اسلام آباد میں شاہین چوک فلائی اوور کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ماضی والی حکومت نے کرپشن کی اس نے جو رقم منگوائی وہ سپریم کورٹ کے خزانے میں میں گئی اسے حکومت کے خزانے میں جانا چاہیئے تھا،پھر نو مئی کا واقعہ آپ کے سامنے ہے ،کل آپ نے اسرائیل کا جو بیان سنا اس کی آج ساری قوم اس کی مذمت کر رہی ہے،آپ دیکھیں فلسطینیوں کا اسرائیل بے گناہ خون بہا رہا ہے،اسارئیل کے ظلم کی مثال نہیں ملتی اور وہ اسرائیل کہتا ہے کہ پاکستان میں ظلم بند ہو نا چاہیئے،اسرائیل پہلے اپنے گریبان نیں جھانکے،یہ ہے وہ سازش جس کے تانے بانے کہا ں کہاں ملتے ہیں،اسرائیل میں جو یہودی رہتے ہیں وہ اپنے مذہب کے تحت زندگی گزاریں مگر انھیں یہ حق حا صل نہیں کہ وہ نہتے فلسطینیوں کا ناحق خون بہائے، قوم آزادی سے سوچے اور پھر اپنے ووٹ اک استعمال کرے،قوم جو فیصلہ کعر گی ہم اس کو تسلیم کریں گے اگر قوم ہمیں مو قع دے گی تو ملک کی تعمیر اور ترقی کریں گے اور ترقی کا نیا سرچشمہ لے کر آئین گے، پی ٹی آئی کی یہ سوچ ہے کہ اگر میں وزیر اعظم نہ ہوں تو ملک کو تبا کر دو، توڑ پھوڑ کی، آپ کہتے ہیں کہ آپ نے ورلڈ کپ جیتا یہ آپ نے اکیلے نہیں جیتا یہ پوری ٹیم کی کاوشوںسے جیتا، ترقیاتی منصوبوں کا سلسلہ وار افتتاح کیا جا رہا ہے۔ چیئر مین پی ٹی آئی ملک دشمنی پر اتر آئے ہیں، پی ٹی آئی نے چار سال میں ملک کا بیڑا غرق کیا۔ 190ملین پاونڈ کا سکینڈل سب کے سامنے ہے،ماضی کی حکومت نے پاکستان کی معیشت کی چولیں ہلادیں، وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف حلوہ یا کھیر نہیں مجبوراً اس پروگرام کو لیا، ماضی کی حکومت نے پاکستان کی معیشت کی چولیں ہلادیں تھی۔ ایک اور عوامی فلاح کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے آئے ہیں، بارہ کہو فلائی اوور سنگ میل منصوبہ ہے، جس کی تکمیل کی پیشگی مبارکباد دیتا ہوں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لاکھوں حاجیوں کی دعاؤں سے اللہ نے آئی ایم ایف کےامتحان سے نکالا، آج آئی ایم ایف بورڈ میٹنگ میں منظوری ہوجائے گی، پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، آئی ایم ایف پروگرام ہمارے لیے کوئی حلوہ یا کھیر نہیں ہے، ہم نے مجبورا اس پروگرام کو لیا۔شہبازشریف نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے سیاست بچانے کے لیے گھمبیر حرکت کی، اور پاکستان کی معیشت کی چولیں ہلادیں، ہم نے سیاست کو داؤ پر لگایا اور ریاست کو بچایا، یہ فرق ہے نوازشریف اور پی ٹی آئی کے پردھان میں، ہماری خلوص نیت کی بدولت ریاست پاکستان بچ گئی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھاکہ جو پروگرام بنا ہے اس کو سادہ الفاظ میں معیشت کی بحالی کا پروگرام کہتا ہوں، حکومت، ادارے، اور افواج پاکستان اس پروگرام میں شریک ہیں، اللہ نے چاہا تو اس پروگرام کی بدولت پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے گا، اس میں زراعت، معدنیات، ٹیکسٹائل ایکسپورٹ اور آئی ٹی کو فروغ دینا ہے، پاکستان قرضوں کے پہاڑ سے نکل آئے گا، اور عالمی افق پر مضبوط اور طاقتور ملک بن کر نکلے گا، اس پروگرام کے ذریعے پاکستان اپنی منزل پر رواں دواں ہوگا۔شہبازشریف نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کی ملک دشمنی کی مثالیں سامنے ہیں، دو وزرائے خزانہ کو کس نے کہا تھا کہ خط جاری نہیں کرنے تاکہ آئی ایم ایف کا پروگرام فیل ہوجائے، یہ کس نے کہا تھا کہ پاکستان سری لنکا بننے جارہا ہے، جب کہ سری لنکا کے صدر نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ پاکستان سری لنکا جیسے تباہ کن راستے پر چلنے کا سوچے بھی، اور انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مدد کریں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین بد دعائیں دے رہے تھے کہ پاکستان دیوالیہ ہوجائے، ایک شخص جس کو اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار پر بٹھایا، ہم نے کالی پٹیاں باندھ کر پاکستان کی خاطر حلف لیا، مخلوط حکومت کی مدت پوری ہونے میں 1 ماہ رہ گیا، کیا ایک بھی کرپشن کا اسکینڈل دیکھا، یہ میرا کمال نہیں بلکہ اللہ کا کرم ہے۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کا بہترین دوست ہے، ہم نے چین کے ساتھ نیوکلیئر پاورپلانٹ کا معاہدہ کیا، چین نے اس منصوبے کی قیمت 2018 میں جو نوازشریف نے طے کی تھی اس سے ایک پائی نہیں بڑھائی، ہماری درخواست پر چین نے 30 ارب روپے مزید کم کردیئے، بتائیں اور قومی خدمت کیا ہوتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے تو 4 سال چور ڈاکو کا منترا چلایا، یہ منتر ٹی وی چینلز پر گھومتا رہا، ہمیں چور ڈاکو کہتے رہے اور خانہ کعبہ کے ماڈل والی گھڑی بیچ ڈالی، اب تو وہ لوگ بھی بولنا شروع ہوگئے جو پی ٹی آئی کے چیئرمین کے اشارے پر ناچتے تھے۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ کابینہ کے سامنے پیش ہوئے تو کابینہ کو بند لفافہ دکھایا گیا اور منظوری کے لیے کہا گیا، ایک دو وزرا نے پوچھا کہ اس میں کیا ہے، لیکن کہا گیا کہ آپ سائن کردیں، 190 ملین پاؤنڈ پاکستان حکومت کے خزانے میں آنا چاہئے تھا، سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں پیسہ جانے کی کیا منطق ہے، اتنے بڑے بڑے ڈاکے ڈالنے والے پی ٹی آئی چیرمین نے جو کیا آپ کے سامنے ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی واقعہ کا تو سوچا بھی نہیں تھا کہ دشمن بھی ایسا کرسکتا ہے، کل اسرائیل کا بیان سنا، فلسطین میں 75 سال سے مسلمانوں کو خون بہہ رہا ہے، بچوں، ماؤں، بیٹیوں کو شہید کیا گیا، دن رات فلسطینیوں پر راکٹ برستے ہیں، وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں کہ اللہ یہ ظلم و زیادتی کب ختم ہوگی، حالیہ تاریخ میں اس ظلم کی مثال نہیں ملتی، وہ اسرائیل کہتا ہے کہ پاکستان میں ظلم زیادتی ہورہی ہے، اسے خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کی حرکت پر آئین اپنا راستہ اپنا رہا ہے تو ان کے پیٹ میں کیوں درد ہورہا ہے، 9 مئی کا واقعہ اسرائیل میں ہوتا تو وہ کیا کرتے، یہی بات تھی تو 6 جنوری 2021 میں کیپٹل ہل میں جو سزائیں دی گئیں اسرائیل نے اس پر بات کیوں نہیں کی، اس سازش کے تانے بانے کہاں کہاں ملتے ہیں، میں کسی معاملے کو مذہبی رنگ دینے پر یقین نہیں رکھتا، اگر اسرائیل میں یہودی بستے ہیں تو وہ شوق سے اپنے مذہب کےمطابق زندگی گزاریں، لیکن ان کا مذہب بھی بے گناہوں مسلمانوں کے قتل عام کی اجازت نہیں دیتا۔وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، قوم 9 مئی واقعے کو کبھی بھلا نہیں پائے گی، شہداء کی کس طرح بے حرمتی کی گئی اور انارکی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، یہ نہیں کہتا کہ آپ ہمیں ووٹ دیں، یہ کہتا ہوں کہ آزادی سے سوچیں، حقائق دیکھیں اور جسے دل چاہے ووٹ دیں۔شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنا کھویا مقام ضرور حاصل کرے گا، الیکشن کے نتیجے میں اگر ہم حکومت میں ہوں گے تو نوازشریف کی قیادت میں غربت اور بے روزگاری کے لیے جانیں لڑا دیں گے، زراعت کی ترقی کا پہیہ برق رفتاری سے آگے بڑھائیں گے، شمسی توانائی لائیں گے، انفارمیشن اور معدنیات میں کام کریں گے، ہم پاکستان میں ترقی کا ایک نیا دور لائیں گے، اگر عوام نے کسی اور کو ووٹ دیا تو ہم احترام کریں گے، ہم پارلیمان میں اپنا کردار ادا کریں گے۔















