راولپنڈی ( اے بی این نیوز )پا کستان تحریک انصاف کے راہنما سام محمود قریشی نے کہا کہ سیاسی صورتحال پر عمران خان سے مشورہ کرونگا،اللہ کا شکر ہے کہ اس نے قید تنہائی گزارنے کا حو صلہ دیا،میں ان سب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے دعاوں میں یاد رکھا، مجھے ڈپٹی کمشنر کے کہنے کے تحت دوبارہ گرفتار کر لیا گیا مگر مجھے پتہ نہیں دوبارہ کیوں گرفتار کیا گیا،میں عدالت کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے رہا کرنے کا حکم دیا، وہ اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ میں اپنے خاندان کا بھی شکر گزار ہوں جنھوں نے میرا ساتھ دیا، میں جب کراچی سے روانہ ہوا تو میرے گھر والےپریشان تھے ،میری اہلیہ نے مجھے اسلام جانے کا کہا،میری اولاد نے کہا کہ آپ نے ہماری وجہ سے دباو میںنہیں آنا ان کا شکر گزار ہوں ،تحریک انصاف کے کارکنان سے کہتا ہوں کہ حوصلہ نہ ہاریں ہر رات کے بعد صبح ہو تی ہے،ہمارے بے گناہ کارکنان قید میں ہیں ان کو رہا ہو نا چا ہیئے۔ پی ٹی ائی کارکنان سے کہنا چاہتا ہوں انصاف کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہے میں اس تحریک کا حصہ ہو جو ازاد پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں عمران خان سے ملاقات کروں گا،ان سے رہنمائی بھی حاصل کروں گاقید تنہائی میں ایک ماہ گزرا،سوچنے اور چیزوں کو دیکھنے کا کثیر وقت ملااسلام اباد ہائیکورٹ نے میرے خلاف ایم پی او کا آرڈر کالعدم قرار دیاپنڈی سے دوبارہ نظر بندی کا ارڈر جاری ہوا،جسکا جواز نہیں تھا پراسیکیوشن کے پاس میری نظر بندی کا کوئی ٹھوس جواز موجود نہیں تھا نو مئی کو کراچی سے اسلام اباد روانہ ہوا تو اہلیہ بیمار تھیں انکا اپریشن ہوا تھامیری قید میں فیملی نے بڑا ساتھ دیا ہر غروب کے بعد طلوع ہوتا ہے قبل ازیں شاہ محمود قریشی کو سنٹرل اڈیالہ سے رہا کر دیا گیا،لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے آج صبح پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔، رہائی کے فوری بعد شاہ محمود قریشی میڈیا سے گفتگو میں آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کریں گے۔قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں کیس کی سماعت ہوئی تو شاہ محمود قریشی کے وکیل تیمور ملک اور ان کی بیٹی گوہر بانو قریشی پیش ہوئے جب کہ سرکار کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عابد عزیز راجوری نے پیروی کی۔عدالت نے ڈی سی راولپنڈی کے تھری ایم پی او کے آرڈرز کالعدم قرار دے دیے تھے اور شاہ محمود قریشی کو کسی قسم کا شورٹی بانڈ جمع کرانے کی ہدایت نہیں کی تھی۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ انہیں کسی اور ایم پی او آرڈر کے تحت گرفتار نہ کیا جائے۔واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے بعد تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر 23 مئی کو رہائی عمل میں آئی تھی لیکن اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد انہیں ایک بار پھر پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔















