اہم خبریں

پی ٹی آئی والوں کو کنگز پارٹی میں دھکیلنے کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے، عمران خان

لاہور ( اے بی این نیوز  )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ میری قوم خوف کے بت کو توڑ دے ورنہ آنے والی نسلیں آپ کو معاف نہیں کریں گی۔ یاد رکھیں یہ 23 کروڑ عوام کو جیل میں نہیں ڈال سکتے۔ ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ میں نے کبھی کسی کی غلامی تسلیم نہیں اور ایک آزاد انسان ہوں۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آج کل تحریک انصاف پر جو ظلم کیا جا رہا ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہمارے 10 ہزار لوگوں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم تحریک انصاف کو نہیں چھوڑ سکتے ان پر بہیمانہ تشدد کیا گیا ہے جن میں اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر رہنما شامل ہیں۔عمران خان نے کہا کہ اب ہمارے ٹکٹ ہولڈرز کو ڈرایہ دھمکایا جا رہا ہے تاکہ یہ ٹکٹ واپس کریں بلکہ کچھ لوگوں سے ایسا کروا بھی دیا گیا ہے اور ایک نئی کسی پارٹی کا بھی ڈرامہ کیا جا رہا ہے۔ ہمیں چھوڑ کر جانے والے کچھ لوگ لابنگ کر کے ہمارے دیگر لوگوں کو بھی ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔اس وقت ایک کنگ پارٹی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہےعمران خان نے کہا کہ اس وقت ایک ’کنگ پارٹی‘ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں ان لوگوں کو شامل کیا جائے گا جو تحریک انصاف کو چھوڑ کر جا رہے ہیں مگر مجھے بتایا جائے کہ جب ایک مضبوط حکومت نہیں بنے گی تو پاکستان کے مسائل کیسے حل ہوں گے۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ اگر ملک میں قانون کی حکمرانی قائم نہ کی گئی تو یہ ملک خدا نخواستہ نہیں بچے گا بلکہ ہمارے لوگ آج سے ہی بیرون ممالک میں جا رہے ہیں جن میں بڑی تعداد میں پروفیشنلز شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط حکومت یہ نہیں ہوتی کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے ساتھ کھڑی ہو۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے جو لوگ چھپے ہوئے ہیں ان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ ہم آپ کی عورتوں کو اٹھا لیں گے۔ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پاکستان کی سیاست اس حد تک گِر جائے گی۔انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس آئی کہ پی ٹی آئی ریپ کا کوئی ڈرامہ کرنے لگی ہے۔ یہ ڈرے ہوئے ہیں کہ خواتین کو رہا کریں گے تو حقائق سامنے آئیں گے۔ ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ گرفتار خواتین میں سے کوئی بھی خاتون جلاؤ گھیراؤ میں ملوث نہیں تھی۔ججوں پر بہت پریشر، نامعلوم نمبروں سے کالز آ رہی ہیںانہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کو استعمال کیا جا رہا ہے جس نے شہباز شریف کا 16 ارب روپے کا کیس پکڑا تھا مگر اس کے خلاف کارروائی نہ ہو سکی۔عمران خان نے کہا کہ جس شخص کو چیئرمین نیب بنایا گیا ہے اس کو بھی یہ کہا گیا ہے کہ کسی بھی طرح سے تحریک انصاف کو ختم کیا جائے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت تحریک انصاف کے خلاف پولیس سے جو کچھ کروایا جا رہا ہے وہ اس سے بالکل بھی خوش نہیں مگر ہمارے مخالفین نے اپنے گلو بٹ رکھے ہوئے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ اتنے پریشر کے باوجود صرف چند لوگ ہمیں چھوڑ کر گئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ امیدواران اسمبلی کو کہہ رہے کہ اگر چھوڑ کر جاؤ گے تو ہم آپ کو ووٹ نہیں دیں گے۔ہمارے دور میں کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہواعمران خان نے کہا کہ ن لیگ آج کہہ رہی ہے کہ ہمارے ساتھ بھی ظلم کیا گیا تھا اب پی ٹی آئی بھی بھگتے تو میرا جواب ہے کہ وہ تمام کیسز آپ کے اپنے دور کے بنے ہوئے تھے اور آپ مجھ سے این آر او مانگ رہے تھے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے دور میں خواتین پر ظلم نہیں کیا نہ ہی سیاسی کارکنوں کو ایسے جیلوں میں ڈالا۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے سارے ادارے پی ٹی آئی کو ختم کرنے میں لگے ہیں مگر سن لیں ایسا کرنے سے سیاسی پارٹیاں ختم نہیں ہوتیں۔ آج ہمارے ٹکٹ ہولڈرز اگر ساتھ نہیں چھوڑ رہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نظریاتی لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کو یہ بھی خطرہ ہے کہ اگر پارٹی کو چھوڑیں گے تو کوئی بھی ہمیں ووٹ نہیں دے گا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھ پر 2 بار قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے اور ایک بار اور ایسا کرنے کی پلاننگ کی جا چکی ہے لیکن میں پیچھے نہیں ہٹوں گا کیوں کہ اس وقت یہ فرعون اور یزید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم پر دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ ہم طاقت کی حکمرانی کو مان لیں۔ نہ میں کبھی کسی کا غلام رہا ہوں اور نہ ہی کبھی کسی کی غلامی کرونگا۔

متعلقہ خبریں