اہم خبریں

ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اسلام آباد(نیوزڈیسک)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی کتاب پاکستان کی پہچان ہے ۔ میں سیاسی تقریر کیلئیے نہیں آیا ، ہم سب آئین کیلئے کھڑے ہیں ۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا میدان قانون ہے اورآپ کا سیاست سے تعلق ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم کبھی کبھی دشمنوں سے اتنی نفرت نہیں کرتے جتنی ہم ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ جج انصاف کے تقاضے پورے کرے ، ایگزیکٹو کا کام ہے وہ قانون بنائے جو عوامی مفاد میں ہوں، ایگزیکٹو عملدرآمد کروائیں۔ بہت ساری سیاسی باتیں بھی ہوگئیں ، میں وضاحت کرتا چلوں کہ میں آیا تھا گولڈن جوبلی پر قائد اعظم کی سینٹرل میں میرے والد رکن تھے ۔ وہ خبیرپختونخواہ میں بھی گئے انہوں نے ممکن بنایا کہ یہ دوست ہونگے اگر ان کا رقبہ جوڑا جائے تو بہت بڑا رقبہ بن سکتا ہے ۔ آپ مفادات دیکھ سکتے ہیں کہ کیا کریں یوہ ایک خواب پورا نہ ہوتا تو ہم اقلیت میں ہوتے ، اقبال نے خواب دیکھا اور ایک تحریک چلی اور ایک الگ ملک بنا ، مجھے شرم سے کہنا پڑرہا ہے کہ یہ وہ پاکستان نہیں رہا ، اگر ہمیں بہتر ایڈمنسٹریشن چاہیے تو ہمیں اپنی ناکامیوں سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا، صدر تمزید الدین آئے تو انکو چیلنج کیا اور ان کی جگہ ایک یورپ سے آیا ۔ مولوی تمیز الدین نے اس وقت کے جج تھے جسٹس محمد بخش نے بحال کیا اور کہا کہ اقدام غلط ہے اور وزرائ کیخلاف فیصلہ جاری ہوگیا۔ بدقسمتی سے یہ نتیجہ الٹ گیا ، اور وہ کریسچن جج تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اہم فیصلوں میں لکھتے ہیں ، تقریریں نہیں کرتے ، اگر ہم مولوی تمیزالدین کی طرف کھڑے ہوجائیں تو جو انہوں نے ججز بحال کئے ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ وزیراعظم نے دس اپریل کو آئین کا دن قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کو ہمیں بچانا ہوگا۔ اس لئے نہیں کہ اس میں میری تنخواہ گارنٹنڈ ہے ، اس میں عوام کی بنیادی حقوق ہیں ۔ امریکہ کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو آئین دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیت کالفظ مناسب نہیں جب لوگ آئین کو سمجھ جائیں گے تو اچھائی کو بھی سمجھ جائیں گے ، ہمارے آئین میں بہت سارے عوامی حقوق ہے ۔ فریڈم آف سپیچ اوردیگر ہیومن رائٹس سائن ہیں ۔ اللہ کے سائے کے بعد آئین کا سایہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب آئین کے محافظ ہیں ہم نے حلف لیا ہے کہ ہم آئین کا ہر ممکن تحفظ کرین گے ، سیاسی باتوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ۔ دوسرے ججز کو وقت نہیں تھا اس لئے وہ نہیں آسکے ۔

متعلقہ خبریں