اسلام آباد ( اے بی این نیوز )وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس ختم ہوگیا، کابینہ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خط پر رجسٹرار سپریم کو عہدے سے واپس بلانے کی منظوری دے دی،وفاقی کابینہ کا اجلاس رات 8 بجے طلب کیا گیا تھااجلاس سوا گھنٹہ جاری رہنے کے بعد سوا 9 بجے ختم ہوااجلاس میں سپریم کورٹ میں الیکشن التوا سے متعلق کیس اور ملکی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔ذرائعاجلاس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط کے معاملے پر بھی بحث کی گئی، کابینہ کے اجلاس میں سیکرٹری اورسرکاری افسران شریک نہیں ہوئے،وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس ایسے وقت پر بلایا گیا تھا جب پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ہنگامی اجلاس میں سپریم کورٹ میں زیرسماعت الیکشن التواکیس پرغورکیا گیا،وفاقی کابینہ نے قاضی فائز کے خط پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو واپس بلانے کی منظوری دیدی، وفاقی کابینہ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خط کی روشنی میں رجسٹرار سپریم کورٹ کو عہدے سے واپس بلانے کی منظوری دے دی۔اجلاس سے تمام سرکاری افسران کو باہر بھیج دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سپریم کورٹ میں زیر سماعت الیکشن التوا کیس کے مختلف پہلوؤں اور کسی بھی فیصلے کے ممکنہ اثرات پر غور کیا جارہا ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس سے تمام سرکاری افسروں کو باہر بھیج دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کےاجلاس میں صرف وزراء موجود ہیں، اجلاس میں اہم فیصلوں کا امکان ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں ایک نکاتی ایجنڈے میں سپریم کورٹ میں زیرسماعت الیکشن التواکیس پرغور کیا گیا۔کیس کے مختلف پہلوؤں اور کسی بھی فیصلے کے ممکنہ اثرات پر غور کیا گیا۔وفاقی کابینہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو واپس بلانے کی منظوری دے دی۔ جسٹس فائز عیسٰی کے خط پررجسٹرارسپریم کورٹ کو واپس بلانےکی منظوری دی گئی۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں الیکشن کے التوا سے متعلق کیس کی سماعت مکمل ہوگئی اور فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے جو منگل کو کسی بھی وقت سنایا جائے گا۔وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا،اعلامیہ کے مطابق
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں دونکاتی ایجنڈے پر تفصیلی غور کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیرقانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل نے کابینہ کومختلف امور پر بریفنگ دی جبکہ کابینہ نے عدالت عظمیٰ کے حکم کے خلاف رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے سرکلر جاری کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا۔ رجسٹرار سپریم کورٹ کی خدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور کابینہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کابینہ نے صدرعارف علوی سے بھی مطالبہ کیا سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ پر فی الفور دستخط کریں تاکہ آئینی وسیاسی بحران سے نجات مل سکے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر ترین جج، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی کو خط لکھا تھا اور ان سے فوری طور پر عہدے سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے لکھا تھاکہ رجسٹرار کے پاس جوڈیشل آرڈرکالعدم قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں۔خط کی کاپی سیکرٹری کابینہ سیکریٹریٹ،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کوخط کےساتھ اٹارنی جنرل کوبھی بھجوائی گئی تھی اور کہا گیا تھاکہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو فوری طور پر واپس بلایا جائے۔















