پاکستان میں سردیوں کی آمد سے قبل گیس کی فراہمی محدود کرنے کا مجوزہ منصوبہ سامنے آگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ کے تحت گھریلو صارفین کو روزانہ 24 گھنٹوں میں سے صرف 8 گھنٹے گیس فراہم کرنے پر غور کیا جارہا ہے، جبکہ باقی 16 گھنٹے سپلائی معطل رہ سکتی ہے۔
وزارتِ پیٹرولیم نے موسم سرما کے لیے گیس مینجمنٹ پلان تیار کیا ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کا مقصد گیس کی طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے دستیاب گیس کی تقسیم کرنا ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی دن کے تین اہم اوقات میں یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان اوقات میں صبح ناشتے، دوپہر کے کھانے اور رات کے کھانے کے وقت کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ باقی اوقات میں گیس کی سپلائی بند رکھنے پر غور کیا جارہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزارتِ پیٹرولیم نے منصوبے کی تیاری مکمل کرلی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کو اس حوالے سے بریفنگ دیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم، حکومت کی جانب سے ابھی تک حتمی منظوری یا گیس کی فراہمی کا باضابطہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔
حتمی پالیسی کی منظوری کے بعد سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) اپنے اپنے علاقوں کے لیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری کرسکتی ہیں۔ اس لیے صارفین کو اپنے علاقے میں گیس کے اوقات سے متعلق سرکاری اعلان کا انتظار کرنا ہوگا۔
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اس وقت سوئی ناردرن روزانہ گھریلو صارفین کو 487 ملین مکعب فٹ گیس، جبکہ سوئی سدرن 286 ملین مکعب فٹ گیس فراہم کررہی ہے۔ دونوں کمپنیوں کی مجموعی فراہمی 773 ملین مکعب فٹ روزانہ بتائی گئی ہے۔
سردیوں میں گیس کی طلب بڑھنے سے نظام پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔ اگر مجوزہ پابندی نافذ ہوئی تو کھانا پکانے کے لیے متبادل ذرائع، مثلاً ایل پی جی سلنڈر، استعمال کرنے کی ضرورت بڑھ سکتی ہے، جس سے گھریلو اخراجات بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔















