اہم خبریں

بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

ملک میں بجلی صارفین کے لیے ایک اور اضافے کا امکان سامنے آگیا ہے۔ بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر نیپرا میں سماعت ہوئی، جس کے بعد صارفین پر مجموعی طور پر 32 ارب 70 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ستمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت بڑھانے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ سماعت کے دوران سی پی پی اے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ عالمی مارکیٹ میں ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) سمیت مختلف ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کوئلہ بھی فی ٹن 15 ڈالر مہنگا ہوا ہے۔

حکام کے مطابق آر ایل این جی کے اسپاٹ کارگوز کی قیمت 28 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایل این جی کی خریداری کے لیے موصول ہونے والی بولی مہنگی ہونے کے باعث اسپاٹ کارگوز خریدنے کا عمل منسوخ کردیا گیا۔

سی پی پی اے حکام نے بتایا کہ اسپاٹ کارگوز کے لیے 27 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی موصول ہوئی تھی، تاہم دیگر اخراجات شامل کرنے کے بعد اس کی لاگت تقریباً 33 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ رہی تھی۔ حکام کے مطابق ایندھن کی لاگت بڑھنے کے باعث بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست کی گئی ہے۔

درخواست منظور ہونے کی صورت میں بجلی صارفین پر مجموعی طور پر 32 ارب 70 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ تاہم فی یونٹ 2 روپے 56 پیسے اضافے کی تجویز تاحال منظوری کی منتظر ہے۔

بجلی صارفین کو حتمی فیصلے کے لیے نیپرا کے اعلان کا انتظار کرنا ہوگا۔ اگر درخواست منظور ہوئی تو ستمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے بلوں پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں