اسلام آباد(اے بی این نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے گزشتہ روز دیے گئے بیان اور تنقید کا انتہائی سخت اور مفصل جواب دیا۔
خواجہ آصف نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی عزت و احترام کرتے ہیں لیکن رولز کی خلاف ورزی اور ذاتی حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ یا پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی میٹنگ نہیں ہو رہی تھی، وہاں سعودی وزیر دفاع اور ترک انٹیلی جنس چیف آئے تھے جہاں ان کی اپنی کوئی ضرورت نہیں تھی، اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاک بھارت جنگ کے بعد خطے میں امن کے قیام، صلح اور بات چیت کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔
خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کے ماضی پر شدید طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ باتیں ایسے کر رہے ہیں جیسے وہ آب زم زم سے دھلے ہوئے ہوں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان بتائیں کہ وہ گزشتہ 40 سالوں میں کون کون سی مراعات سے محروم رہے ہیں اور 10 سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے کے باوجود انہوں نے کشمیر کاز کے لیے کیا کارنامے انجام دیے سوائے “فری رائیڈ” لینے کے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے افغانستان جانے کی جو آفر کی تھی، وہ کس حیثیت سے کی تھی کیا وہ وزیرِ خارجہ تھے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر خیبرپختونخوا کی حکومت میں مولانا کو حصہ مل جاتا تو وہ کل ایسی تقریر کبھی نہ کرتے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مجھ میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ میں نے اپنے ماضی پر معذرت کی اور آگے بڑھنے کی بات کی، لیکن ماضی نہ کھلوایا جائے ورنہ سب کی حقیقتیں بیان کرنی پڑ جائیں گی۔
انہوں نے پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے گٹھ جوڑ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج حالت یہ ہو گئی ہے کہ مولانا کو خواتین کی حمایت اور سہارے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مذہب کو سیاست اور کمائی کا ذریعہ جتنا جے یو آئی نے بنایا ہے کسی اور جماعت نے نہیں بنایا، اور اگر مولانا کو حکومت میں حصہ یا مراعات مل جائیں تو سب ٹھیک رہتا ہے، حصہ نہ ملے تو شور شرابہ شروع کر دیا جاتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ “اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں، کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں”۔
مزیدپڑھیں: کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں ،خواجہ آصف کا مولانا فضل الرحمان کو جواب















