اہم خبریں

انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کے لیے اہم اعلان

اسلام آباد: انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد اور کاروباری اداروں کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر مقرر کی گئی ہے، جبکہ یکم نومبر سے تاخیر کی صورت میں بھاری جرمانے عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکس نظام میں تبدیلی کے تحت یکم نومبر سے ’’لیٹ فائلر‘‘ کی کیٹیگری ختم کرکے نان فائلر کی اصطلاح استعمال کی جائے گی۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں مقررہ وقت پر گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مالی جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے پر کتنا جرمانہ ہوگا؟
ایف بی آر ذرائع سے منسوب تفصیلات کے مطابق انفرادی ٹیکس گوشوارہ تاخیر سے جمع کرانے پر جرمانہ ایک ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے تک کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔

اسی طرح ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے جرمانہ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے، جبکہ کمپنیوں کے لیے 20 ہزار روپے کے بجائے ایک لاکھ روپے مقرر کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ تفصیلات فراہم کردہ خبر میں بیان کردہ مجوزہ یا اعلان کردہ جرمانوں سے متعلق ہیں۔ حتمی اطلاق کے لیے متعلقہ قانونی نوٹیفکیشن کی تصدیق ضروری ہے۔

تاجروں کے لیے بھی اہم ہدایت
رپورٹ کے مطابق تاجروں کو سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں رجسٹریشن کے لیے بھی 31 اکتوبر کی تاریخ اہم قرار دی گئی ہے۔ آسان ٹیکس اسکیم کے تحت مقررہ وقت میں ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کے لیے الگ جرمانوں کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق تاخیر کے پہلے مہینے میں 10 ہزار روپے، دوسرے مہینے میں 25 ہزار روپے اور تیسرے مہینے میں 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیے جانے کا ذکر ہے۔

ٹیکس دہندگان اب کیا کریں؟
ٹیکس دہندگان کو چاہیے کہ وہ اپنے گوشواروں کی تیاری مکمل کرکے مقررہ وقت میں جمع کرائیں۔ اگر کسی شخص کو اپنی ٹیکس حیثیت، رجسٹریشن یا جرمانے کے بارے میں ابہام ہو تو وہ ایف بی آر کے سرکاری ذرائع یا ٹیکس ماہر سے رہنمائی حاصل کرے۔

متعلقہ خبریں