اہم خبریں

آٹے کی بڑھتی قیمتوں پر حکومت کا اہم اقدام

آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد سندھ حکومت نے رعایتی گندم جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور مارکیٹ میں آٹے کے نرخوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق 15 اکتوبر سے صوبے بھر کی فلور ملز کو رعایتی نرخوں پر گندم فراہم کی جائے گی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کراچی سمیت مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق فلور ملز مالکان نے آٹے کی قیمت میں 20 روپے فی کلو تک اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد 10 کلو آٹے کا تھیلا تقریباً 1900 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے شہریوں خصوصاً کم آمدن والے طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

سندھ حکومت کی جانب سے فلور ملز کو 100 کلو گندم 12 ہزار 500 روپے کے رعایتی نرخ پر فراہم کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانا اور مصنوعی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ کے گوداموں میں اس وقت 3 لاکھ 46 ہزار 414 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔ مزید برآں، پاسکو اور درآمدی گندم کی آمد کے بعد مجموعی ذخائر 8 لاکھ 36 ہزار 414 میٹرک ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے، جس سے سپلائی میں بہتری آئے گی۔

دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 14 ہزار 500 روپے فی 100 کلو تک پہنچ چکی ہے۔ ہول سیل مارکیٹ میں ریگولر آٹا 155 روپے، میدہ 167 روپے اور فائن آٹا 180 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ریٹیل سطح پر قیمتیں اس سے بھی زیادہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رعایتی گندم جاری کرنے کا فیصلہ آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے مؤثر نتائج کے لیے مارکیٹ کی نگرانی بھی ضروری ہوگی۔

متعلقہ خبریں