اہم خبریں

سانحہ پمز کی تحقیقات میں بڑی رکاوٹ، پمز حکام کی بڑی غلطی کا انکشاف

سانحہ پمز کی تحقیقات میں بڑی رکاوٹ، پمز حکام کی بڑی غلطی کا انکشاف

اسلام آباد (اے بی این نیوز) سانحہ پمز کی تحقیقات میں بڑی رکاوٹ سامنے آگئی، تحقیقاتی ٹیم کو جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹس تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹس دستیاب نہ ہونے کے باعث پمز حکام کے خلاف فوجداری کارروائی تاحال شروع نہیں ہوسکی۔ اسلام آباد پولیس نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کو ایک بار پھر پوسٹ مارٹم رپورٹس کی فراہمی کے لیے خط لکھ دیا ہے۔

تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 14 بچوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم اور نمونے لیے بغیر ہی ورثا کے حوالے کردی گئی تھیں۔ پمز انتظامیہ نے سانحے کے چند گھنٹوں بعد ہی بچوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کردی تھیں۔

پولیس حکام نے اس سے قبل بھی تقریباً 14 روز پہلے میڈیکو لیگل آفیسر پمز سے پوسٹ مارٹم رپورٹس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم رپورٹس تاحال تحقیقاتی ٹیم کو موصول نہیں ہوسکیں۔

ذرائع کے مطابق سانحہ پمز میں مبینہ غفلت کے ذمہ دار 8 افسران کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم واقعے کو 11 روز گزرنے کے باوجود آگ لگنے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہوسکیں۔

پوسٹ مارٹم اور نمونے لیے جانے کا عمل نہ ہونے کے باعث اہم شواہد کے تحفظ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جس کے باعث سانحہ پمز میں مبینہ غفلت کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات مزید اہم ہوگئی ہیں۔
مزید پڑھیں‌:امام الحق اور محمد رضوان این سی سی آئی اے میں پیش، بڑی پیش رفت سامنے آگئی

متعلقہ خبریں