پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری اقتصادی جائزہ مذاکرات میں گیس سیکٹر کی سبسڈی اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔ آئی ایم ایف نے گیس شعبے کی مالی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سبسڈی کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بڑھ کر 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں تقریباً 1.8 ٹریلین روپے اصل واجبات شامل ہیں جبکہ باقی رقم سود اور مختلف سرچارجز پر مشتمل ہے۔
وزارتِ پٹرولیم کی جانب سے بریفنگ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ محفوظ یا پروٹیکٹڈ صارفین کو کم نرخوں پر گیس فراہمی کے باعث ٹیرف میں فرق بڑھا، جس سے مالی دباؤ میں اضافہ ہوا۔ اسی تناظر میں گیس کے نرخوں اور سبسڈی کے موجودہ نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مذاکرات کے دوران گیس سیکٹر کی سبسڈی کو زیادہ مؤثر اور ہدفی بنانے پر زور دیا گیا۔ آئی ایم ایف نے تجویز دی کہ سبسڈی صرف مستحق صارفین تک محدود کی جائے تاکہ مالی بوجھ کم ہو اور گردشی قرضے پر قابو پایا جا سکے۔
حکومت نے اس موقع پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مستحق صارفین کو براہ راست نقد امداد فراہم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ گیس کے شعبے میں مکمل ٹارگٹڈ سبسڈی نظام نافذ کرنے کے لیے مزید تیاری اور انتظامی اقدامات درکار ہیں۔
دوسری جانب آئی ایم ایف نے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے میں اضافے پر بھی سوالات اٹھائے۔ حکام کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 1.675 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کی مد میں کم فنڈز کی فراہمی اور بعض واجبات کی ادائیگی میں تاخیر شامل ہیں۔
مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے پاکستان کے پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے نظام کو سراہتے ہوئے کہا کہ علاقائی چیلنجز کے باوجود ملک میں ایندھن کی سپلائی برقرار رہی اور کسی بڑے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔















