لاہور (6 ستمبر 2026): پاکستان سپر لیگ کے شائقین کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور لیگ کی آٹھوں فرنچائزز نے آئندہ پی ایس ایل 11 کو اپریل اور مئی کے بجائے جنوری میں کرانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے۔
کرکٹ سے متعلق رپورٹ کے مطابق یکم ستمبر کو لندن میں ہونے والے پی ایس ایل گورننگ کونسل کے اجلاس میں لیگ کی ونڈو تبدیل کرنے کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ میڈیا رائٹس ہولڈر والی ٹیکنالوجیز کی جانب سے اپریل اور مئی کی ونڈو میں اشتہارات سے مطلوبہ آمدنی حاصل نہ ہونے کا مؤقف پیش کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اپریل اور مئی کا عرصہ رمضان المبارک کے فوراً بعد آتا ہے، جس کے باعث متعدد کمپنیوں کا سالانہ اشتہاری بجٹ پہلے ہی خرچ ہوچکا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے لیگ کی آمدنی بڑھانے کے لیے جنوری کی ونڈو کو بہتر آپشن قرار دیا جا رہا ہے۔
فرنچائزز نے نشریاتی آمدنی پر سوالات اٹھا دیے
اجلاس کے دوران فرنچائز مالکان نے نشریاتی آمدنی کی مکمل اور بروقت ادائیگی کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ موجودہ معاہدے کے تحت سینٹرل ریونیو پول سے حاصل ہونے والی براڈکاسٹ آمدنی کا 95 فیصد حصہ آٹھوں فرنچائزز کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے۔
پی ایس ایل ماضی میں فروری اور مارچ کے دوران منعقد ہوتی رہی ہے، تاہم 2025 اور 2026 میں آئی سی سی ایونٹس کے باعث لیگ کو اپریل اور مئی میں منتقل کرنا پڑا۔ اس ونڈو میں پی ایس ایل کا بھارتی پریمیئر لیگ سے بھی ٹکراؤ ہوا، جس کے باعث غیر ملکی کھلاڑیوں کی دستیابی ایک اہم مسئلہ بنی رہی۔
جنوری میں لیگ کرانے کے لیے چیلنجز بھی موجود
اگر لیگ کو جنوری میں منتقل کیا جاتا ہے تو آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ اور جنوبی افریقا کی SA20 کے باعث غیر ملکی اسٹار کرکٹرز کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب پنجاب کے شہروں لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں جنوری اور فروری کے دوران شدید سردی اور دھند بھی انتظامی و لاجسٹک مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ ان حالات میں ابتدائی میچز کراچی میں کرانے اور موسم بہتر ہونے کے بعد لیگ کو پنجاب اور پشاور منتقل کرنے کی تجویز بھی زیرغور ہے۔
رپورٹ کے مطابق قومی ٹیم کے پاس نومبر کے وسط سے مارچ تک نسبتاً خالی شیڈول موجود ہے، جس دوران کوئی بین الاقوامی سیریز مقرر نہیں۔ اجلاس میں ای اسپورٹس میں قدم رکھنے اور سال کے وسط میں ایک اضافی ٹورنامنٹ کرانے کی تجاویز پر بھی بات ہوئی۔
تاہم پی ایس ایل 11 کی جنوری میں منتقلی کے حوالے سے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام متعلقہ فریقین کے درمیان مزید مشاورت کے بعد لیگ کی تاریخوں اور ونڈو کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔















