اسلام آباد (اے بی این نیوز) وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ نے کہا کہ حکومت کا تیل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مجوزہ اقدام زیر غور ہے اور توقع ہے کہ کابینہ جلد پالیسی کی منظوری دے گی جب کہ گنوار گروپ نے تیل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پیٹرولیم مارکیٹ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
وزارت اقتصادی امور کے مطابق پارکو گنوار لمیٹڈ اور گنوار گروپ کے وفد نے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ سے ملاقات کی، جس میں توانائی اور پیٹرولیم کے شعبوں میں تعاون، اصلاحات اور ریفائنریز کی اپ گریڈنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد میں گنوار گروپ کے ہیڈ آف پورٹ فولیو شہاب رچیال، کارپوریٹ افیئرز کے ڈائریکٹر تھامس پیٹراس اور کاشف میو شامل تھے۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ نے کہا کہ حکومت کا تیل کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مجوزہ اقدام زیر غور ہے اور توقع ہے کہ کابینہ جلد پالیسی کی منظوری دے گی۔
گنوار گروپ نے تیل کی قیمتوں میں کمی کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پیٹرولیم مارکیٹ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ گروپ کے مطابق ڈی ریگولیشن سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے درمیان صحت مند مقابلے کو فروغ ملے گا۔
احد چیمہ نے کہا کہ پیٹرولیم سیکٹر کی کارکردگی اور مسابقت بڑھانے کے لیے ریفائنریز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے جب کہ گنوار گروپ نے پاکستان کی ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔ گنوار گروپ کے مطابق پارکو گنوار لمیٹڈ پاکستان میں اپنے کاروباری نیٹ ورک کو بڑھا رہا ہے۔
وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور نے ملک میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ادارہ جاتی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے پی ایس او کو مزید مضبوط کر رہی ہے جبکہ اوگرا اور پیٹرولیم سیکٹر میں اصلاحات شفافیت، مسابقت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے جاری رکھیں گی۔
اس موقع پر گنوار گروپ نے خلیجی بحران کے دوران پاکستان میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ احد چیمہ نے کہا کہ عالمی بحران کے باوجود اوگرا اور دیگر اداروں کے تعاون سے ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنایا گیا۔ دونوں اطراف نے اصلاحات، مارکیٹ کی ترقی اور پٹرولیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے رابطے اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مزید پڑھیں:پاکستان کا امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس 5 سال میں 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا















