گلگت (اے بی این نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے میڈیا کوآرڈینیٹر مزمل ملک نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سماجی تحفظ، انسانی ترقی، نوجوانوں اور خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔
اپنے بیان میں مزمل ملک نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین آزر نے بجٹ کو عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے اور معاشرے کے کمزور طبقات کو بااختیار بنانے کی سمت دینے کا وژن پیش کیا ہے، جو ان کی دوراندیشی اور عوامی فہم کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کو محض اعداد و شمار کا مجموعہ بنانے کے بجائے انسانی ترقی، سماجی بہبود اور معاشی خودمختاری کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ مستحق افراد، نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار اور معاشی مواقع پیدا کرنا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
مزمل ملک کے مطابق سماجی تحفظ کے لیے پہلی مرتبہ ایک ارب روپے مختص کرنا اور سماجی شعبے کے لیے 4 ارب روپے کے انڈومنٹ فنڈ کی تجویز پیش کرنا کمزور طبقات کو حکومتی ترجیحات میں شامل کیے جانے کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے قرضوں کی سہولت، خواتین کے لیے معاشی سرگرمیوں کے مواقع اور انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ اس سوچ کا حصہ ہے جس کے تحت نوجوانوں کو ملازمت کے متلاشی ہونے کے بجائے روزگار پیدا کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔
پیپلز پارٹی کے میڈیا کوآرڈینیٹر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، انہیں سرمایہ، تربیت، رہنمائی اور کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اپنے خاندانوں کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہنرمند خواتین کے لیے گھروں کی دہلیز پر چھوٹے کاروبار کے مواقع پیدا کرنا بھی اہم قدم ہے۔ گلگت بلتستان کی خواتین دستکاری، کشیدہ کاری، گھریلو صنعت اور خوراک کی تیاری سمیت مختلف شعبوں میں صلاحیت رکھتی ہیں، جنہیں مالی معاونت اور منڈی تک رسائی فراہم کرکے معاشی طور پر بااختیار بنایا جاسکتا ہے۔
مزمل ملک نے کہا کہ ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں اور پلوں کی تعمیر کا نام نہیں بلکہ اصل ترقی انسان کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کو بااختیار کرنے، خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور غریب خاندانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کفایت شعاری، سماجی شعبے اور انسانی ترقی کے لیے وسائل مختص کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ محدود وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مزمل ملک نے امید ظاہر کی کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران میرٹ، شفافیت، آسان رسائی اور مستحق افراد کی درست نشاندہی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ مختص وسائل حقیقی حقداروں تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی پائیدار خوشحالی اس وقت ممکن ہوگی جب نوجوان اپنے ہنر اور محنت کے ذریعے روزگار حاصل اور پیدا کرنے کے قابل ہوں، خواتین باعزت کاروبار کرسکیں اور غریب خاندان اپنے وسائل اور صلاحیتوں کے ذریعے خود کفیل بن سکیں۔
مزید پڑھیں:ایشین گیمز میں بھارت کی مشکل بڑھ گئی، محسن نقوی کو اہم ذمہ داری ملنے کا امکان















