اسلام آباد( اے بی این نیوز) ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اس کا جائز دفاعی حق ہے اور اس معاملے پر دنیا کو دہرا معیار اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر نہ تو مذاکرات ہوئے اور نہ ہی کسی مفاہمتی دستاویز میں اس کا ذکر موجود ہے۔
اسلام آباد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پاک ایران تعلقات کو تاریخی اور برادرانہ قرار دیا۔ انہوں نے ایرانی صدر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ایران کی خوشی پاکستان کی خوشی اور ایران کا دکھ پاکستان کا دکھ ہے۔
ایک ایرانی صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بھی بیلسٹک میزائل پروگرام شامل نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں بھی اس حوالے سے کوئی شق موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اس کی قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات سے جڑا معاملہ ہے۔ اگر دنیا کے دیگر ممالک اپنے دفاع کے لیے میزائل صلاحیت رکھتے ہیں تو ایران کو بھی یہی حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس معاملے پر کسی قسم کا امتیازی رویہ یا دہرا معیار مناسب نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں انتہائی اہم ہیں۔ بعض قوتیں ان کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم امن پسند ممالک اور عوام متحد ہو کر ایسی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور دونوں ممالک خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کردار ادا کرتے رہیں گے۔
مزید پڑھیں:تیل و گھی کی قیمتوں سے متعلق اہم کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا















