تہران (اے بی این نیوز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی ملک کے خلاف جنگ یا جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ وہ صرف اپنے دفاع کا قانونی اور جائز حق استعمال کر رہا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کا بنیادی موقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ پر مبنی ہے اور ملک کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا۔ ایران نے نہ تو کوئی جنگ شروع کی ہے اور نہ ہی کوئی تنازع شروع کیا ہے بلکہ ہمیشہ دفاعی موقف اپنایا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس کی پوری حکمت عملی اس کے قومی مفادات اور دفاع کے گرد گھومتی ہے۔ ایران بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے دفاع کا حق استعمال کر رہا ہے۔
صدر پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی قوم کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ ایران کو اس کے جوہری حقوق سے فائدہ اٹھانے سے روکنا ایک غیر منصفانہ اور غیر قانونی اقدام ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مخالفین اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور حالیہ کشیدگی کے دوران بنیادی ڈھانچے، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے دشمنوں کے عزائم کا پتہ چلتا ہے، جو ایران کی تہذیب کو نقصان پہنچانے اور ملک کو پسماندگی کی طرف دھکیلنے کے درپے ہیں۔
مزید پڑھیں:کرکٹ شائقین کیلئے خوشخبری،بابر اعظم کا شاندار کارنامہ















