اہم خبریں

نوشکی ،مسافر بس سے اغوا ہونے والے 9 افراد کا افسوسناک قتل

کوئٹہ( نیوز ڈیسک )نوشکی میں مسافر بس سے 9 افراد کو اغوا کیا گیا اور پھر جمعے کی رات نامعلوم مسلح افراد نے انہیں قتل کردیا۔ڈپٹی کمشنر نوشکی حبیب اللہ موسیٰ خیل کے مطابق جمعہ کو مسلح افراد نے کوئٹہ-نوشکی تافتان N-40 شاہراہ سلطان
مزید پڑھیں:اپوزیشن اتحاد کی ریلی، پشین میں دفعہ 144 نافذ

چرہائی کے قریب بلاک کر کے گاڑیوں کی تلاشی شروع کر دی۔اس گھناؤنے فعل کے ذمہ داروں نے بس کو روکا، مسافروں کو اغوا کیا اور بعد ازاں متعدد راؤنڈ فائرنگ کرکے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔مقتولین کی لاشیں نوشکی کے

پہاڑی علاقے میں ایک پل کے نیچے سے ملی ہیں، ان کے جسم کے مختلف حصوں پر گولیوں کے نشانات تھے۔نوشکی کے ایس ایس پی اللہ بخش کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت منڈی بہاؤالدین اور گوجرانوالہ کے رہائشیوں کے طور پر ہوئی

ہے۔ایس ایس پی نے بتایا کہ ایک الگ واقعے میں بندوق برداروں نے سلطان چرہائی کے علاقے میں ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔زخمیوں میں بلوچستان کے ایم پی اے غلام دستگیر کا بھائی بھی شامل ہے۔زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے نوشکی میں بے گناہ مسافروں کے قتل کی مذمت کی اور سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ

قائداعظم کے پاکستان میں ایسی حرکتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی، کیونکہ مسافروں کے خلاف قتل کا یہ فعل ایک غیر انسانی اور ناقابل معافی جرم ہے۔

متعلقہ خبریں