اہم خبریں

پانچویں مرتبہ وزیر اعظم بن کر کون سا تیر مارلیں گے، بلاول

گوجرانوالہ (اے بی این نیوز    )چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ چیف جسٹس بے بھٹو ریفرنس کی سماعت کی جو 12سال پہلے دائر کیاگیاتھا، بھٹو ریفرنس کی سماعت چل رہی ہے جو ایک تاریخی موقع ہے،قائد عوام ذوالفقار بھٹو بے بہت قربانیاں دیں ،ایٹم بم کا تحفہ دیا،پرانے سیاستدانوں سے ہمار ا کوئی مقابلہ نہیں ہے،بہت سے سیاستدان آئے اور گئےلیکن پی پی آج بھی موجو د ہے،میری جو تربیت ہوئی ہے اس میں نفرت ،تقسیم اور گالم گلوچ کی سیاست نہیں،پرانے سیاستدانوں کی غلطیوں کا بوجھ نوجوانوں کو اٹھانا پڑے گا،نوجوان ڈگریاں لے کر پھر رہے ہوتے ہیں اور ان کو کوئی روگار نہیں ملتا،8فروری کو بتانا ہے کہ عوام اپنی مرضی سے ووٹ اور حکومت منتخب کرتے ہیں،3بار خود اور چوتھی مرتبہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے حکومت چلائی،اب یہ سیاستدان پانچویں مرتبہ پھر حکومت مانک رہے ہیں،اب پانچویں مرتبہ وزیر اعظم بن کر کون سا تیر مارلیں گے،چور چور کا نعرہ لگانے والے خود چور بن گئے،ایک نے خود کو جیل سے بچانا ہے دوسرےنے نکالنا ہے،ن لیگ کے دوستوں پر فیصلہ چھوڑے تو ضرور الیکشن وقت پر نہ ہوتے،وزیر اعظم بننے کے بعد اس کو ہٹایا گیاتو کہتا ہےمجھے کیوں نکالا،چیف جسٹس نے بھٹو ریفرنس کی سماعت کی جو 12سال پہلے دائر کی تھی،سپریم کورٹ کے شکر گزار ہیں کہ ریفرنس کی سماعت مقرر کی،بھٹو ریفرنس کی سماعت چل رہی ہے جو ایک تاریخی موقع ہے،قائد عوام ذوالفقار بھٹو نے بہت قربانیاں دیں ،ایٹم بم کا تحفہ دیا،قائد عوام نے کسانوں کو زمینیں دیں، ملک کو جمہوریت دلوائی،قائد عوام کاقتل کیا گیا، جس میں آمر ضیاالحق ملوث تھا،عدلیہ کو موقع ملا ہے اپنے ہاتھوں سے یہ خون دھوئے اور انصاف کرے،عوام نے پہلے فیصلہ کر لیا ہے کہ ذوالفقار بھٹو شہید بے قصور تھے،ہم چاہتے ہیں تاریخ درست ہو، آئین کے بانی کو انصاف فراہم کیا جائے،قائد عوام نے غریب کو آزادی اور ووٹ کا حق دیا، وہ گوجرانوالہ میں جلسہ سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ آپ کی خدمت ایسے کرنا چاہتا ہوں جیسے اپنے والدین کی کرتے ہیں،پیپلزپارٹی کی خوبی ہے کسی کیساتھ مخالفت نہیں،ہمار ا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں،ہمارا مقابلہ مہنگائی اور بے روزگاری سے ہے،ہم چاہتے ہیں کہ تاریخ درست کی جائے،عدلیہ ذوالفقار علی بھٹو کیس میں انصاف کرے گی،شہید بے نظیر بھٹو کا حکم تھاکہ غریب عوام کی خدمت کریں گے،ہم سب کو مالکانہ حقوق دلائیں گے،ہم بے نظیر مزدور کارڈ لے کر آئیں گے،شہید بینظیر بھٹو نے نفرت اور تقسیم کی نہیں عوام کی خدمت کی سیاست سکھائی،پرانے سیاستدانوں سے ہمار ا کوئی مقابلہ نہیں ہے،بہت سے سیاستدان آئے اور گئےلیکن پی پی آج بھی موجو د ہے،آپ کے پاس بہت سے سیاستدان آئیں گے جو ووٹ کیلئے ایک دوسرے کو گالی دینگے،پرانے سیاستدانوں سے ہمارا کوئی مقابلہ نہیں ہے،پیپلز پارٹی کا مقابلہ غربت، بے روزگاری اورمہنگائی سے ہے،پرانے سیاستدانوں کی غلطیوں کا بوجھ نوجوانوں کو اٹھانا پڑے گا ،میری جو تربیت ہوئی ہے اس میں نفرت ،تقسیم اور گالم گلوچ کی سیاست نہیں،ہم نے عوام کوحقوق دینے ہیں جو ان کاحق بنتا ہے،پیپلز پارٹی سیلاب متاثرین کیلئے20لاکھ گھر بنا رہی ہے،ہم یوتھ کیلئے نئی لائبریری بنائیں گے،نوجوانوں کے روزگار کیلئے ہم نے مد د کرنی ہے،پاکستان کے نوجوان اپنی مرضی سے ووٹ بھی دیں گے اور حکومت بھی بنائیں گے،نوجوان ڈگریاں لے کر پھر رہے ہوتے ہیں اور ان کو کوئی روزگار نہیں ملتا،اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے مستقبل کیلئے نوجوان قیادت کا انتخاب کریں،نوجوان ڈگریاں لے کر پھر تے ہیں ان کوکوئی روزگار نہیں ملتا،8فروری کو بتانا ہے کہ عوام اپنی مرضی سے ووٹ اور حکومت منتخب کرتے ہیں،3بار خود اور چوتھی مرتبہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے حکومت چلائی،اب پانچویں مرتبہ وزیراعظم بن کر کون سا تیر مار لیں گے،3بار خود اورچوتھی مرتبہ بھائی کو وزیر اعظم بنا کر یہ ناکام رہے،8فروری کو ایسا سرپرائز دیں گے کہ رائیونڈ والے یاد رکھیں گے،اب یہ سیاستدان پانچویں مرتبہ پھر حکومت مانگ رہے ہیں،ہم الیکشن لڑیں گے مقابلہ کرینگے کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے،الیکشن میں جیت پیپلز پارٹی اور جیالوں کی ہوگی،کسی کو حق نہیں کہ وہ کسی کو پانچویں مرتبہ وزیر اعظم بنا دے، اب پانچویں مرتبہ وزیر اعظم بن کر کون سا تیر مارلیں گے،چور چور کا نعرہ لگانے والے خود گھڑی چور نکلے،ایک نے خود کو جیل سے بچانا ہے دوسرےنے نکالنا ہے،ن لیگ کے دوستوں پر فیصلہ چھوڑتے تو ضرور الیکشن وقت پر نہ ہوتے،پہلے آئی جے آئی بنائی گئی تاکہ بینظیر بھٹو کا راستہ روکا جائے،وزیر اعظم بننے کے بعد اس کو ہٹایا گیاتو کہتا ہے مجھے کیوں نکالا،دوسری مرتبہ خونی سازش کے تحت دوبارہ وزیر اعظم بنا،ان ہی لوگوں سے ٹکرایا جس نے اسے وزیر اعظم بنایا تھا،حکومت سے نکل گیا تو کہتا ہے مجھے کیوں نکالا،10سال سعودی عرب میں چھٹیاں گزاریں پھر واپس آیا،اس شخص کوپھر دوتہائی اکثریت دلوائی گئی تو ان لوگوں سے پھر لڑا،لڑائی کر کے باہر آیا تو کہتا ہے مجھے کیوں نکالا،آج بھی لکھ لو دوبارہ سہارے کے ذریعے وزیر اعظم بنے گا تو ان سے پھر لڑیگا،پاکستان 2024میں داخل ہورہاہے اب نئی سیاست کرنی چاہیے،یہ نہیں ہوسکتا کہ عمر70سال ہے اور کہتا ہے نوجوانوں کی نمائندگی کرتا ہوں،سیاسی میدان میں پاکستان کو ترقی دلوانی ہے تو ایک ہی جماعت ہے،پی ٹی آئی اور ن لیگ کا الیکشن لڑنے کا ذاتی مقصد ہے،ایک نے خود کو جیل سے نکالنا ہے ایک نے خود کو جیل سے بچانا ہے،مجھے جیل کی فکر نہیں نہ نیب کی فکر،مجھے صرف عوام کی فکر ہے۔

متعلقہ خبریں