اسلام آباد ( اے بی این نیوز )ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں سماعت، جسٹس منصور علی شاہ نے صدارتی ریفرنس پر سوالات اٹھا دیئے،، ریما رکس میں کہا بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ سپریم کورٹ سے برقرار رہا، نظرثانی کی اپیل بھی مسترد ہوئی، ایک ختم ہوئے کیس کو دوبارہ کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ عدالت کا فیصلہ حتمی ہے جسے بدلا نہیں جا سکتا۔ ، کیا جب یہ سارا کیس چلا، ملک میں آئین موجود تھااٹارنی جنرل اپ ہمیں اب اس ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر مطمئن کریں،، جو فیصلہ حتمی ہوچکا ہے اس کو ٹچ نہیں کرسکتے،، دوسری نظر ثانی کے سپریم کورٹ پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں،، کیا کل صدر مملکت یہ ریفرنس بھیج سکتے ہیں کہ تمام پرانے فیصلوں کو دوبارہ لکھا جائے، پورا ریفرنس تو ٹی وی انٹرویوز کے گرد گھومتا ہے ،نیزبھٹو صدارتی ریفرنس میں9 معاونین مقرر،،, وکیل مخدوم علی خان اور علی احمد کرد نے عدالتی معاونت کی حامی بھر لی, عدالتی معاونین کو نوٹس جاری کرکے جواب لیا جائے گا ،، ،، ، عدا لتی حکمنا مے میں کہا گیا آ ر ٹیکل 186 کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا،، آخری بار صدارتی ریفرنس 2012 میں سنا گیا،، بدقسمتی سے یہ ریفرنس اس کے بعد سنا نہیں گیا اور زیر التوا رہا، سپریم کورٹ نے کہا کہ جسٹس (ر) منظور ملک کو عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے اور ان کی معاونت ان کی رضا مندی سے مشروط ہوگی، وہ عدالت کی معاونت کیلئے تحریری جواب یا ذاتی حیثیت میں پیش ہوسکتے ہیںچیف جسٹس نے ریما رکس میں کہا اس کے بعد کتنے صدر آئے کسی صدر نے یہ ریفرنس واپس نہیں لیا ،،سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے ریفرنس مقرر نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔















