اہم خبریں

میاں صاحب انتظامیہ کی مدد کے بجائے اپنے نظرئیے پر الیکشن لڑیں،بلاول بھٹو

کوئٹہ (نیوزڈیسک) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میاں صاحب کو چاہیئے کہ ووٹ کی بےعزتی نہیں عزت کریں، میاں صاحب انتظامیہ کی مدد کے بجائے اپنے نظریے پر الیکشن لڑیں۔سی پیک تبھی کامیاب کہلا سکتا ہے جب مقامی لوگوں کا اسٹیک ہو، سی پیک کو جس روٹ سے شروع ہونا چاہیئے تھا ویسے نہیں ہوا، دہشت گردی کا شکار علاقوں میں ترقی اور لوگوں کو روزگار دیں گے، اصل مسائل حل کریں گے تو دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرسکیں گے۔پیپلزپارٹی نے ہمیشہ لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطالبہ کیا، ہم سب کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتے ہیں۔پیپلزپارٹی کا مقابلہ صرف مہنگائی اور بے روزگاری سے ہے، بلوچستان کے عوام نے ردعمل دے دیا ہے کہ وہ کن کے ساتھ ہیں، جس طرح ن لیگ کا جلسہ کروایا گیا عوام میں تاثر اچھا نہیں گیا، جہاں تک معافیاں ہیں میرے خیال میں وہ ضروری تھا۔کوئٹہ میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر چنگیز جمالی کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلوچستان کے صحافی پاکستان کے سب سے بہادرصحافی ہوتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی 8 فروری کو بلوچستان میں کامیاب ہوگی، پیپلزپارٹی بلوچستان میں حکومت بنائے گی،پیپلزپارٹی ہر پچ پر کھیلنا جانتی ہے، 8 فروری کو اچھا سرپرائز دیں گے، ہم جانتے ہیں الیکشن کیسے لڑنا اور جیتنا ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں حکومت بناکریہاں کے مسائل حل کریں گے، آصف زرداری نے 18ویں ترمیم، این ایف سی، آغاز حقوق بلوچستان دیا، آصف زرداری نے پاک ایران گیس لائن، گوادر پورٹ اور سی پیک کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اپنے دور میں تمام اداروں کو اپنی ٹائیگر فورس بنانا چاہتے تھے، ہم نے اس سازش کو ناکام بنایا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 2018 میں کہا گیا فلاں لیڈر فرشتہ ہے باقی سب گندے ہیں، 2023 میں کسی اور کو فرشتہ بناکر پیش کیا جارہا ہے، کچھ لوگ تاثر دیتے ہیں کہ وہ حکومت میں آئیں گے، پاکستان میں نئی سیاست لانے کا وقت ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 17 وزارتیں اسلام آباد میں کام کررہی ہیں جو نہیں ہونا چاہیئے، جو وزارت وفاق میں نہیں ہونی چاہیئے وہ بند کرکے 100 ارب روپے بچائیں گے، سیاستدانوں کو سیاسی دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیئے، ہم سجھتے ہیں عوام جو کردیتے ہیں تو سب نظر آتا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ منفی سیاست کے بجائے مثبت سیاست کی جائے، پی ٹی آئی کو تو سربراہ نے بند گلی میں دھکیل دیا ہے، ایسا نہ ہو ہماری پوری جمہوریت کو ہی بند گلی میں دھکیل دیا جائے۔

متعلقہ خبریں