اہم خبریں

ایران اور حماس کے درمیان ماسکو میں ملاقاتیں ، روس کا اہم کردار سامنے آگیا

ماسکو(نیوزڈیسک) ایرانی نائب وزیر خارجہ اور حماس کے نمائندوں کی ملاقات روسی دارالحکومت ماسکو میںہوئی جس میں جنگ بندی اور غزہ میں بدترین صورتحال کا جائزہ لیا گیا ، ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کا کہنا ہے کہ حماس کے سیاسی بیورو کے ڈپٹی چیئرمین ابو مرزوق نے ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور علی باقری کنی کے ساتھ ملاقات کی۔ ابو مزروق نے ماسکو میں روسی سفارت کاروں سے ملاقات کی۔روس کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں عہدیداروں نے غزہ کی پٹی میں رکھے گئے یرغمالوں کی رہائی اور غیر ملکیوں کے انخلا پر بات چیت کی۔ایرانی عہدیدار اور حماس کے نمائندے کے ماسکو کے اس دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس ایک ایسے موقع پر مشرق وسطیٰ کے اس تنازع میں اہم ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ وہ خود یوکرین کیساتھ جنگ میں الجھا ہوا ہے۔روسی ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس ملاقات میں روس کا بھی کوئی نمائندہ موجود تھا۔روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ ماسکو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ اس کے دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔اس دعویٰ کے باوجود روس نے اس سے قبل سلامتی کونسل میں جس قرارداد کا مسودہ پیش کیا تھا ، اس میں شہریوں کیخلاف تشدد کی مذمت کرنے کے باوجود حماس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔روسی خبررساں ایجنسی تاس نے کہا کہ ایرانی نائب وزیر خارجہ علی باقری نے حماس کے نمائندے ابو مرزوق سے کہا کہ تہران کی ترجیح ، فوری جنگ بندی، لوگوں کیلئے امداد کی فراہمی اور غزہ کی سخت ناکہ بندی کا خاتمہ ہے۔

متعلقہ خبریں