اہم خبریں

غزہ میں اسرائیلی جارحیت ، پاکستان میں مقیم فلسطینی اپنے رشتہ داروں کیلئے سخت پریشان

اسلام آباد(نیوزڈیسک) غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور بدترین بمباری جاری ہے ،پاکستان میں موجود فلسطینی شہری اپنے پیاروں کی زندگیوں کیلئے سخت پریشان دکھائی دیئے ۔ فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم فلسطین سے بہت دور ہیں لیکن ہم اپنے بہنوں ، بھائیوں اور کم سن بچوں کی زندگیوں کیلئے بہت پریشان ہیں ۔ اسرائیل کی فلسطینی شہریوں کو خوراک ، ادویات اور امدادی اشیاء تک رسائی نہ دینا انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ مائیں ، بچے بوڑھے خوراک، ادویات کو ترس رہے ہیں۔ اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کو خوراک، ادویات اور امدادی اشیاء تک رسائی کی اجازت دینے سے انکار ی ہے۔اپنے گھر سے خوراک کی فراہمی کا کاروبار چلانے والی فلسطینی خاتون بسمہ المشرقہ نے غزہ میں بڑھتے ہوئے بحران کے پیشِ نظر بے خواب راتوں میں مبتلا ہونے کے بارے میں بات کی۔ اسلام آباد کی رہائشی المشرقہ کا تعلق مغربی کنارے کے شہر الخلیل سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ ہم یہاں ہیں اور بہت دور ہیں لیکن یقین کریں ہم سو نہیں سکتے، ہم کھا پی نہیں سکتے، کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ہم اپنے خطے کے حالات سے بہت پریشان ہیں اور ہم ٹی وی کو آن رکھتے ہیں۔ ہم ہمیشہ وہاں کے لوگوں سے رابطے میں رہنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہم کوئی اچھی خبر سننا چاہتے ہیں کہ وہ ابھی تک محفوظ ہیں، وہ ابھی تک زندہ ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں اپنے رشتہ داروں کو کھو دینے والی المشرقہ نے کہا کہ غزہ میں رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطہ کرنے میں کسی بھی تاخیر سے وہ ان کی حفاظت کے حوالے سے خوفزدہ ہو جاتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں دیر ہو جائے تو ہم بہت ڈرتے ہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ کچھ ہو گیا ہے۔ میری سہیلی کا پورا خاندان جس میں چار بچے اور شوہر ہیں اور وہ خاتون۔ ان کی عمر صرف 25 سے 26 سال تک ہے اور وہ، اس کا شوہر، بچے اور ساس سب شہید ہوچکے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جاری تشدد سے بچے اور خواتین سمیت عام شہری متاثر ہو رہے ہیں۔یہ کوئی عام بات نہیں بلکہ اب کی بار خطرناک حالات ہیں۔پاکستان میں فلسطینی مشن کے نائب سربراہ نادر الترک جن کا تعلق غزہ سے ہے، کہتے ہیں کہ ان کی والدہ، بہنیں اور سسرالی افراد اس وقت شدید اسرائیلی بمباری کے درمیان شہر میں مقیم ہیں۔عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ دو ہفتوں میں ہمیں انہیں ٹیکسٹ کرنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ شاید ہر چار یا پانچ دن بعد ہمیں ایک خط ملتا ہے۔ صرف اتنا لکھا ہوتا ہے الحمدللہ، ہم ابھی تک زندہ ہیں۔اسلام آباد میں ایک فلسطینی تاجر اور صحافی ڈاکٹر فواد احمد جن کا تعلق ہیبرون سے ہےنے کہا کہ اس بار غزہ میںبہت زیادہ مخالف اور پریشان کن صورتِحال ہے۔احمد نے کہا کہ وہ غزہ میں رہنے والے اپنے وسیع خاندان اور دوستوں کے بارے میں فکرمند ہیں۔ ڈاکٹر فواد احمد کاکہنا تھا کہ فلسطینی مسجدِ اقصیٰ کے لیے لڑ رہے ہیں جو نہ صرف ان کی بلکہ دنیا بھر کے ہر مسلمان کی ہے۔مسلم دنیا کے لیے میرا پیغام یہ ہے کہ آج ہم مصیبت میں ہیں تو کل آپ بھی ہو سکتے ہیں اس لیے براہ کرم غزہ کی مدد کریں، وہاں کے انسانوں کی مدد کریں۔غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی طالبعلم سمیر عدنان اسلام آباد کامسیٹس یونیورسٹی میں الیکٹریکل انجینئرنگ پروگرام میں ماسٹرز کے دوسرے سال میں ہیںکا کہنا تھا کہ میں غزہ کی صورتِ حال سے بہت پریشان ہوں۔ میرے شہر، میرے خاندان، دوست، لوگ، سبھی پر اور خاص طور پر بچوں پر اسرائیلی افواج کے حملے ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں