اہم خبریں

عمران خان کے 44 ماہ کا گند معاشی تباہی مہنگائی، چوری، کا دور تھا،مریم اورنگزیب

اسلام آباد (  اے بی این نیوز   )وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ نگراں حکومت تک اتحادی حکومت اپنی مدت پوری کریگی ،پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ توڑ کر ملک کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیل لیا،چیئرمین پی ٹی آئی سری لنکا کی مثال دیتے تھے،مسلط وزیراعظم نے ملک کو اس دھانے پر پہنچا دیا،جس وقت اتحادی حکومت کو حکومت ملا تو ملک کی معیشت تباہ تھی ،ہمیں ڈیفالٹ ملک دے کر چلا گیا جب کہ ہم نے ترقی پذیر ملک دیا تھا،پی ٹی آئی کے پہلے 14 مہینوں میں گیس، آٹا ، چینی ختم ہوگئی تھی،تاریخی موقع تھا گیس خریدنے کا وہ ضائع کیا گیا،پی ٹی آئی نے پڑوسی ممالک نے ناراض کیا،اتحادی حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا،آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تھوڑنا جرم کے مترادف ہے،اپنی سیاست کو بچانے کیلئے پی ٹی آئی نے پٹرول سستا کیا،خارجہ پالیسی کو ہم دوبارہ 14 ماہ میں واپس لے آئیں ، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ سا بق دور میں پی آئی ڈی کو لوگوں پر کیچڑ اچھالنے کے لئے استعمال کیا گیا،جو لوگ الزامات لگا رہے تھے آج وہی اچھے ہونے کی گواہیاں دے رہے ہیں،اتحادی حکومت نے 14 ماہ میں اہم کام کئے،عمران خان کے 44 ماہ کا گند معاشی تباہی مہنگائی، چوری، کا دور تھا،پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف پروگرام کی خلاف ورزی کی، اسے معطل کیا، ملک کو ڈیفالٹ کے دھانے پر چھوڑ کر گئے،عمران خان نے ملک دشمنی کی ہر حد پار کی انہوں نے کہا کہ یہ ملک کو سری لنکا بنانا چاہتے تھے،پٹرول کی قیمت اس لئے کم کی کہ آئی ایم ایف پروگرام کی خلاف ورزی ہو،
انہوں نے جان بوجھ کر آئی ایم ایف پروگرام کی خلاف ورزی کی،معاشی استحکام والا پاکستان انشاءاللہ پاکستان کو دے کر جا رہے ہیں،ڈیفالٹ کے دھانے پر پہنچا ہوا پاکستان بچا کر پاکستان کے عوام کو دے کر جا رہے ہیں،موجودہ حکومت نے دنیا کے ساتھ تعلقات کو بااعتماد طریقے سے بحال کیا،14 ماہ کے دوران ہم نے 3900 میگاواٹ بجلی پیدا کی، پچھلے چار سالوں کے دوران ایک میگاواٹ بجلی پیدا نہیں کی،
خیبر پختونخوا میں ساڑھے تین سو ڈیم بنانے کا اعلان کرنے والے نے عوام کو ڈیم فول بنایا،ملک کو ڈیفالٹ سے بچا کر معاشی استحکام دینا موجودہ حکومت کا بڑا کارنامہ ہے،عمران خان نے نواز شریف دور کے تمام منصوبوں کو بند کیا،پی ٹی آئی حکومت نے بجلی بنانے والے کارخانوں کو بند کیا،فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار صفر میگاواٹ ہے،اگر یہ سب کچھ 14 ماہ میں ہو سکتا ہے تو پچھلے چار سال میں کیوں نہیں ہوا،پچھلی حکومت نے احتساب کا جھوٹا نعرہ لگا کر سیاسی مخالفین کو سزائے موت کی چکیوں میں رکھا،آج روس سے سستا تیل آ رہا ہے، آذربائیجان سے سستی گیس کا معاہدہ ہو چکا ہے،جب ہم اقتدار میں آئے تو ہمارے پاس ایندھن خریدنے کے لئے پیسے نہیں تھے،پی ٹی آئی نے سستے تیل اور سستی گیس پر سیاست کی،پی ٹی آئی نے فرنس آئل مافیا کو فائدہ پہنچانے کے لئے سستی گیس نہیں خریدی،سیلاب کے دوران وفاق میں شہباز شریف، سندھ میں پیپلز پارٹی، پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی،وفاق نے سیلاب سے متاثرہ صوبوں کے لئے 100 ارب روپے دیئے،کووڈ کے حوالے سے جب میٹنگ ہوتی تو سی ایم سندھ کی موجودگی کی وجہ سے یہ شخص میٹنگ چھوڑ کر چلا جاتا تھا،جب سیلاب آیا تو ایک تہائی ملک کا حصہ زیر آب آیا، 11 لاکھ ایکڑ کھڑی فصل تباہ ہوئی،80 لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، 1600 سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے،شہباز شریف نے سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں کا دورہ کیا،وزیراعظم سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑے رہے،ریلیف کے تمام کاموں کی نگرانی خود کی، 70 ارب روپے بی آئی ایس پی پروگرام کے ذریعے غریب عوام کو دیئے،اسلام آباد کے ترقی کیلئے 20 ارب بلین منظور ہوئے،پورے اسلام آباد میں اس وقت میٹرو بسسز مختلف روٹس پر چل رہے ہیں،آج مزدور طبقہ ائیر کنڈیشن بس میں سفر کر رہے ہیں ،
بہارہ کہوں کے پل کا افتتاح 30 جولائی کو ہوگا ،اسلام آباد میں 35 نئے پارکس کا بھی بنیں گے،وظیفے میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا ، جو ہم نے 14 ماہ میں کیے وہ کیوں 4 سال میں نہیں ہوئے، پٹرول پر سبسڈی ، رمضان المبارک میں سبسڈی دی،پورے ملک میں مفت آٹا تقسیم کیا گیا،جو مشکل فیصلے کیے انکا آج بھی دکھ ہیں،جو منصوبے نواز شریف نے شروع کیے تھے وہ بھی پی ٹی آئی دور میں بند ہوئے ،ہم نے 14 ماہ میں 3900 میگا واٹ سسٹم میں ڈالی،جو کام ہم نے 14 ماہ میں کیے وہ چار سال میں کیوں نہیں ہوئے،چار سال میں صرف ملک کو لوٹا گیا،روس کا دورہ کرنے کے بعد پٹرول کا کوئی ذکر تک نہیں تھا،آذربائجان سے سستی گیس کا معاہدہ کو چکا ہے ، آج موجودہ حکومت میں کارخانے چل رہے ہیں ، سیلاب متاثرین کیلئے وزیراعظم نے 100 ارب روپے دیئے تھے،چئیرمن پی ٹی آئی کووڈ کے میٹنگ کے دوران چلے جاتے تھے جس میٹنگ میں وزیراعلی سندھ ہوتے تھے ، وزیراعظم شہباز شریف ڈیلی بیسسسز پر سیلاب متاثرین کی نگرانی کرتے تھے ،ٹانک میں 100 گھرانے بن چکے ہیں ، وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کیلئے ہر جگہ آواز اٹھائی ۔

متعلقہ خبریں