لاہور(اے بی این نیوز)یوتھ بزنس اینڈ ایگری کلچر لون اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ گزشتہ گیارہ سال پر محیط جو واقعات گورنر صاحب نے بتائے انہوں نے میرا کام آسان کردیا ۔پاکستان میں پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے حکومت نے پٹرولیم قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا اور عوام کو مزید ریلیف دینے کی کوشش کی ۔پیٹرول کی قیمت میں نو روپے جبکہ ڈیزل ساڑھے سات روپے کم کیا گیا ہے ۔آئی ایم ایف پروگرام کا یہ مثبت پہلو ہے کہ روپے کی قدر میں استحکام آیا۔یہ ایک مثبت پہلو بتایا ہے ۔نوازشریف کو اقتدار سے ہٹایا گیا کیونکہ اس نے قوم کے نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دیئے ۔ ایک ڈکٹیٹر وزیراعظم ہائو س میں بیٹھ کر کہتا تھا کہ نوازشریف اور شہبازشریف کو اندر کرووں گا۔۔ لیکن عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ووٹ کے ذریعے کس کو منتخب کرتے ہیں۔ چار سالہ دورمیں جو تباہی بربادی ہوئی اس کو بھی سامنے رکھیں اور پھرالیکشن میں فیصلہ کریں کہ کون ووٹ کا حقدار ہے ۔چینی ، آٹا سکینڈل تو میرے زمانے میں نہیں ہوا۔۔ خیبرپختونخوا میں بی آرٹی کا کھربوں کا سکینڈل ہمارے زمانے کا نہیں، مالم جبہ کا سکینڈل ، سعودی گھڑی کا سکینڈل ، 190 ارب کا سکینڈل کس کے زمانے میں سامنے آئے یہ وہ حقائق ہیں جنہیں قوم کو دکھنا ہوگا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ کس کو آگے لے کرآنا ہے، نوازشریف سے کئی بار اقتدار چھینا گیا ۔آئی ایم ایف پروگرام نہ ہوتا تو معاشی صورتحال مسائل کا شکار نہ ہوتی ۔ اگر قوم نے نوازشریف کو موقع دیا تو ہماری پوری ٹیم مل کر ملک کا نقشہ بدل دیں گے















