نئی دہلی(نیوزڈیسک)پب جی پردوستی اور محبت کے بعد چار بچوں کے ہمراہ بھارت جانے والی سیما نے دعویٰ کیا ہے کہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد اسے آن لائن دھمکیاں مل رہی ہیں۔فرانسیسی خبررساں ادارے سے بات چیت میں سیما نے سچن کے دو کمروں پر مشتمل خاندانی گھر کے تنگ صحن میں بات کرتے ہوئے کہاکہ ہم دوست بنے اور ہماری دوستی محبت میں بدل گئی اور ہماری بات چیت ہر صبح اور رات طویل ہوتی چلی گئی، آخر کار ہم ملنے کا فیصلہ کیا۔ہندو مذہب اختیار کرلینے والی سیما کا کہنا تھا کہ میں واپس جانے یا سچن کو چھوڑنے کے بجائے مرجانا پسند کروں گی۔مذہب چھوڑنے والی سیما کے مطابق انہیں پہلے ہی آن لائن دھمکیاں مل چکی ہیں،انہوں نے کہاکہ وہ دونوں ایک ساتھ رہیں گے یا مرجائیں گے۔سیما نے کہا کہ وہ سب سے پہلے سچن کی گیمنگ کی مہارت سے متاثر ہوئی تھیں۔تین سال بعد یہ جوڑا مارچ میں نیپال میں ذاتی طور پر ملا اوروہ پہلی ہی ملاقات کے بعد اپنے بدسلوکی کرنے والے پاکستانی شوہر کو چھوڑنے کیلئے تیار ہوگئیں۔22 سالہ سچن مینا ایک غیر شادی شدہ ہندوستانی شاپ کیپنگ اسسٹنٹ اور ہندو ہیں، جن کی سیما سے دوستی اور پھرمحبت کی کہانی 2020 میں عالمی وبا کے دوران آن لائن شوٹنگ گیم کھیلتے ہوئے شروع ہوئی۔چاربچوں کے ساتھ پاکستان چھوڑ کر نیپال کے راستے بھارت جانے والی سیما مشروط ضمانت پررہا ہیں کہ وہ یہ جگہ چھوڑ کرکہیں نہیں جاسکتیں۔















