اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگست 2023 میں ہم معاملات نگراں حکومت کے سپرد کر دیں گے۔ قوم سے خطاب کرتے ہو ئے انہوں نے کہا کہ ہم نے ملکی مفادات کی راہ مہں بچھائی گئی نبارودی سرنگوں کو صاف کیا، ہم نئے ملک کو ڈیفالٹ نہیں ہو نے دیا، کاروباری طبقہ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا، قرض لیتے لیتے ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں لیکن اب ہمیں اپنے پاوں پر کھڑاا ہو نا ہو گا،ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ ہم اپنے پاوں پر کھڑے ہو جائیں اس سلسلے آپ نے آگے بڑھ کر کردار ادا کر نا ہو گا ،ہم دعا کرتے ہیں کہ نو مئی جیسا یوم سیاہ دوبارہ ہماری زندگی میں نہ آئے،جسطرح میرے قائد نواز شریف نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا تھا،لوڈشیڈنگ ختم کی اور بہت سہولیات دی تھیں پھر دیں گے ،آئیں نفرتیں مٹائیں اور ایک ہو جائیں، ہم نے بے روزگاری سے روز گار کی جانب سفر شروع کیا۔ ہم نے بد ترین بد انتظامی کو ختم کیا۔ ہم سیاست نہیں تیاست کو بچایا، اپر یل 2022 کو اقتدار سنبھالا تھا۔اب اگست میں نگران حکومت کے حوالے کر دیں گے، ہم نے سازشوں کی آگ کو بجھایا، پاکستان میں حالات بہتر ہو رہے ہیں بیرونی سرمایہ کاری آرہی ہے۔ 15 ماہ میں ہم نے چار سال کی بربادیوں کا ملبہ صاف کیا، پاکستان کے مفادات کی راہ میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کیں، معیشت، خارجہ تعلقات، توانائی، امن و امان سمیت دیگر شعبوں میں بدترین بدانتظامی، کرپشن، نااہلی اور سازشوں کی لگی آگ بجھائی، سوا سال کا یہ مختصر عرصہ ناامیدی کے اندھیروں سے امید کی روشنی کی طرف ایک پرعزم سفر تھا، آئی ایم ایف کے ساتھ مشکلات کے باوجود معاہدہ میں کامیاب رہے، ہم نے ریاست بچانے کیلئے اپنی سیاست کی قربانی دی، دوست ممالک چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعاون کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپریل 2022ء کو عوام نے بطور وزیراعظم جو ذمہ داری سونپی تھی، ملک کی بھلائی اور عوام کی خیرخواہی اور خدمت کی یہ مقدس امانت اگست 2023ء کو ہم نگراں حکومت کے سپرد کر دیں گے، 15 ماہ میں ہم نے چار سال کی بربادیوں کا ملبہ صاف کیا، پاکستان کے مفادات کی راہ میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کیں، معیشت، خارجہ تعلقات، توانائی، امن و امان سمیت دیگر شعبوں میں بدترین بدانتظامی، کرپشن، نااہلی اور سازشوں کی لگی آگ بجھائی، سوا سال کا یہ مختصر عرصہ ناامیدی کے اندھیروں سے امید کی روشنی کی طرف ایک پرعزم سفر تھا، سب کچھ کھو جانے سے کچھ حاصل ہونے کا آغاز تھا، تخریب، انتشار اور فساد کے راستہ سے تعمیر کی طرف پلٹنے کا سفر تھا، معاشی تباہی سے نکل کر معاشی استحکام کی طرف لوٹ آنے کا سفر تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تنہائی سے نکل کر وفا اور بااعتماد دوستوں اور بھائیوں کی محفل میں واپسی کا سفر تھا، یہ سیلاب میں گھرے تین کروڑ 30 لاکھ اہل وطن کا ہاتھ تھامنے، ان کے تباہ ہونے والے گھروں اور کھیت کھلیانوں کو پھر سے آباد کرنے کا سفر تھا، بے روزگاری سے دوبارہ روزگار کی فراہمی، مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو کچھ ریلیف فراہم کرنے کا سفر تھا، یہ انسانی عظمت، وقار، قومی خود مختاری، میڈیا، اظہار رائے اور شہری آزادیوں کی بحالی کا سفر تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کی واحد منتخب مخلوط حکومت ہے جو مختصر ترین مدت کیلئے قائم ہوئی جس نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے چیلنجوں اور مشکلات کا سامنا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس حکومت نے دراصل ایک معیار، ایک مثال اور ایک سمت متعین کی کہ کم وقت، ان گنت مشکلات اور سازشوں کے باوجود ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے لیکن شرط صرف یہ ہے کہ اﷲ پر بھروسہ کے بعد پوری دیانتداری، دانائی، اجتماعی بصیرت اور دن رات کی مسلسل محنت سے کام کیا جائے ہم نے یہی راستہ اختیار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس عرصہ میں ہم نے سیاست نہیں کی ریاست کی حفاظت کی، ہم نے ریاست بچانے کیلئے اپنی سیاست کی قربانی دی، ووٹ بینک کی فکر نہیں کی مگر سٹیٹ بینک میں ذخائر میں مسلسل اضافہ کی فکر کی، معاشی بحالی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ آئی ایم ایف کا وہ پروگرام تھا جس کو سابق حکومت نے سخت شرائط پر کیا تھا پھر خود ہی اسے توڑ کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے کنارے پہنچا دیا، ہم اس کی بحالی کی کوشش میں تھے تو سابق حکمران اسے ناکام بنانے کی سازشوں میں دن رات مصروف تھے، ان وطن دشمنوں کی سازشوں کے باوجود ہم نے ہمت نہیں ہاری اور آئی ایم ایف کا پروگرام بحال کیا جس کے بعد اب پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ اور ان کی ناپاک خواہش دونوں مٹی میں مل چکی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم کی طرف سے پاکستان کے عظیم دوست اور برادر ممالک چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر انتہائی مشکل حالات میں بڑے خلوص کے ساتھ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا، ان کے اس خلوص اور تعاون کو ہم کبھی فراموش نہیں کریں گے۔















