اسلام آباد(اے بی این نیوز )وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ 2018 میں منقطع ترقی کے سفر کا دوبارہ آغاز ہے، وزیراعظم کی بصیرت، قوت ارادی اور معاملہ فہمی کی بدولت ہم معاشی استحکام لانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، معیشت میں گراوٹ کا عمل رک چکا ہے۔ اتوار کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2023-24 کے بجٹ کی منظوری کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ اللہ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے انہیں آنے والے مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش اور منظور کرانے کا اعزاز بخشا اور ملک و قوم کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائی، ارکان اسمبلی نے جس صبر و تحمل اور بردباری کے ساتھ یہ قومی فریضہ سر انجام دیا ہے وہ لائق تحسین ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ، چیئرمین سینیٹ، اراکین سینیٹ، اراکین قومی اسمبلی، ایف بی آر، وزارت خزانہ، وزارت منصوبہ بندی اور دیگر معاون اداروں کی طرف سے فراہم کردہ تعاون کا بھی مشکور ہوں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ اس معاشی سفر کا دوبارہ آغاز ہے جو 2018 میں منقطع ہو گیا تھا، یہ ایک مشکل سفر ہے، گزشتہ سال جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ملک مشکل حالات کا شکار تھا، وزیراعظم کی بصیرت، قوت ارادی اور معاملہ فہمی کی بدولت ہم معاشی استحکام لانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، معیشت میں گراوٹ کا عمل رک چکا ہے، گزشتہ سال ذمہ داریوں کے آغاز پر ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا، ہمارے پاس ریاست یا سیاست بچانے کے راستے تھے، ہم نے اپنی سیاسی ساکھ کو دائو پر لگا کر ملک اور ریاست کو ترجیح دی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اتحادی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت کی گراوٹ کا عمل رک کر اب استحکام کی راہ پر گامزن ہے، ہمارا اگلا ہدف ترقی کے سفر کا آغاز ہے جس کے لئے بجٹ میں ٹھوس تجاویز دی گئی ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ وزیراعظم، وفاقی کابینہ، اتحادی جماعتوں اور پارلیمانی لیڈران کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے بجٹ ترجیحات پر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ سپیکر نے صبر و تحمل اور حکمت و دانائی کے ساتھ بجٹ کا پورا سیشن مکمل کیا۔ وزیر خزانہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کل خصوصی حج پرواز کے حوالے سے ان کے بیان کو میڈیا اور سوشل میڈیا میں غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے، تمام اراکین اپنے اپنے اخراجات پر حج کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے مزید حج پروازوں کو بند کر دیا تھا چونکہ بجٹ سیشن جاری تھا اس لئے ہم نے سعودی حکومت سے درخواست کی کہ ایک پرواز کو آنے کی اجازت دی جائے تاکہ جو ارکان اور دیگر شہری حج پر جانا چاہیں تو وہ جا سکیں، اس حوالے سے تمام اخراجات متعلقہ ارکان اور افراد خود ادا کر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی بل اور پی ایس ڈی پی میں تبدیلیاں آئندہ 24 سے 48 گھنٹے میں شامل کی جائیں گی۔ وزیر خزانہ نے اس موقع پر قومی اسمبلی، سینیٹ سیکرٹریٹ اور بجٹ کے پورے سیشن میں مختلف اداروں کے فرائض سر انجام دینے والے ملازمین کے لئے تین ماہ کی بنیادی تنخواہ کے اعزازیہ کا اعلان بھی کیا۔















