اسلام آباد (اے بی این نیوز) وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فارن فنڈنگ کے کیس کا فیصلہ ہونے میں چھ سال لگے ، اس میں بھی تاخیری حربے استعمال ہوئے ، لاڈلے خان نے انہی تاخیری حربوں کو استعمال کیا ورنہ لاڈلا خان آج جیل میں ہوتا ۔ عطا تارڑ نے کہا کہ گڈ ٹو سی یو نے ریلیف نہ دیا ہوتا تو کل عبدالرزاق شر کو شہید نہ کیا جاتا ، یہ جرات کہاں سے آتی ہے کہ آپ اپنے خلاف کیسز کی پیروی کرنے والے وکیل کو قتل کرا دیں؟ کل مقتول وکیل کے بیٹے نے ملزم کو نامزد کر کے پرچہ کرایا ہے ، پہلے کرپشن کی اور اب وہ شخص قتل پر بھی اتر آیا ہے، عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ یہ کریمنل مائنڈڈ لوگ ہیں جن کا خیال ہے کہ ان کا وجود پاکستان کی ریاست سے بڑا ہے، ریاست سے بڑا کوئی بھی نہیں ہوتا ۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پنجاب اسمبلی سے ہماری پارٹی کے صرف پانچ لوگ ہمیں چھوڑ کر گئے تھے ، جنرل فیض کے بد ترین دور میں بھی اس سے زیادہ ہمیں کوئی نہیں چھوڑ کر گیا تھا، ہم نے کسی کو غدار نہیں کہا اور سب کو واپس لیا ، ہمارے پاس ہر جگہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار موجود ہیں، ہمارے پاس گنجائش ہی نہیں ہے نئے لوگوں کو لینے کی ، انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کے ساتھ ہمارا آئیڈیل ورکنگ ریلیشن شپ ہے، اعلی عدلیہ کےچند مخصوص لوگ اس سازش کا حصہ ہیں جو خان صاحب کو گڈ ٹو سی یو کہتے اور غیر ضروری ریلیف دیتے ہیں ، خان صاحب نے امریکا کو پاکستان کی ملٹری امداد بند کرنے اور ایف سولہ طیارے نہ دینے کا کہا، جو لوگ پی ٹی آئی چھوڑ کر جا رہے ہیں ان کو میں سلام پیش کرتا ہوں، فواد چودھری اور علی زیدی سے بہت مخالفت رہی مگر وہ غداری کا لیبل اپنے اوپر لگانے کو تیار نہیں ۔















