اہم خبریں

چیئرمین نیب کو نااہل قرار دینے کے لیے پی ٹی آئی چیئرمین نے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرلیا

اسلام ( اے بی این نیوز   )چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کیا اور انہیں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فرائض کی انجام دہی کے لیے نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا۔مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی تفصیلات کے مطابق بدھ کو چیئرمین نیب کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں آئین کے آرٹیکل 209 اور نیب آرڈیننس کے سیکشن 6 کے تحت درخواست دائر کی گئی۔درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک معزز، باوقار، ذمہ دار اور قانون کا پابند شہری ہے۔ وہ سیاست دان ہیں جنہوں نے اگست 2018 سے اپریل 2022 تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 22 ویں وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں. درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کو آرٹیکل 62 (1) (1) کے تحت صادق اور امین قرار دیا ہے۔ ان کے خلاف سو سے زائد غیر سنجیدہ، بوگس اور سیاسی مقاصد پر مبنی مقدمات کے اندراج کے باوجود، عمران خان نے ہمیشہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تحقیقات کے مقاصد کے لیے تعاون کیا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے استدعا کی کہ چیئرمین نیب نے نیب آرڈیننس کے سیکشن 24 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکم مئی کو چھٹی کے دن ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جنہوں نے وارنٹ کو 8 دن تک خفیہ رکھا۔عمران خان کی گرفتاری اس طریقے سے عمل میں لائی گئی جو پاکستان کے آئین کے تحت اسے دستیاب اس کے بنیادی حقوق اور خاص طور پر آرٹیکل 9، 10،10-A اور 14 کی خلاف ورزی ہے، وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کے ذریعے پوری دنیا میں یہ تاثر دیا گیا کہ عمران خان دہشت گرد اور ریاست کا دشمن یا عادی مجرم یا مطلوب اور مفرور ہے۔درخواست میں لکھا گیا ہے تاریخ 01.05.2023 کو وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کے دوران، عمران خان کو بغیر کسی وجہ اور جواز کے، پاکستان رینجرز نے گھسیٹا، مارا پیٹا اور زخمی کیا جو نیب کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔عمران خان نے استدعا کی کہ وارنٹ گرفتاری کے اجراء سے لے کر عملدرآمد تک چیئرمین نیب کے اقدامات بے ضابطگیوں، غیر قانونی، بدنیتی پر مبنی تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر من مانی، غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے کام کیا۔عمران خان نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کی انکوائری کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کے بارے میں جان بوجھ کر نہیں بتایا گیا، انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کرنے کے معاملے کو خفیہ رکھنا نیب قانون کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے 11 مئی کے اپنے حکم میں وارنٹ پر عملدرآمد اور رینجرز کی جانب سے گرفتاری کے پورے عمل کو غیر قانونی قرار دیا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ چیئرمین نیب سنگین بدانتظامی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس لیے وہ اس عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے۔ عمران خان نے مطالبہ کیا کہ چیئرمین نیب کو فوری طور پر انکے عہدے سے ہٹایا جائے۔عمران خان نے استدعا کی کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیئرمین نیب نذیر احمد کے خلاف انہی ثبوتوں کی بنیادوں پر کارروائی کرے. اس سے قبل پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان چیئرمین نیب کے خلاف ہتک عزت کی کارروائی کا آغاز کر چکے ہیں.چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کو یکم جون کو 15 ارب کے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا.

متعلقہ خبریں