اہم خبریں

ملک دیوالیہ کے قریب پہنچ چکا لیکن آپ عمران خان کا یورین سیمپل لیکر بیٹھے ہیں، شعیب شاہین کی عبدالقادرپٹیل پر پر تنقید

اسلام آباد (نیوزڈیسک)سینئر قانون دان اور سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن شعیب شاہین نے کہا ہےکہ آڈیو لیکس تحقیقاتی کمیشن ملکی تاریخ کا پہلا کمیشن تھا جس میں وفاقی حکومت نے اپنی مرضی کے ججز کا انتخاب کیا، ایگزیکٹیو کو جوڈیشری کے معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی اختیار نہیں،نجی ٹی وی سے بات چیت میں شعیب شاہین نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت کوئی کمیشن بنانا چاہتی تھی تو اسے چیف جسٹس کو خط لکھنا چاہئے تھا، جس کے بعد جسٹس عمر عطاء بندیال کمیشن تشکیل دے دیتے،انکوائری کمیشن سے متعلق شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن قائم کرنا غیر آئینی اقدام تھا جب کہ ججز کے کنڈکٹ کے متعلق انکوائری کمیشن کے ذریعے تحقیقات بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ آرٹیکل 209 کے تحت ایسے معاملات کے لئے جوڈیشل کونسل موجود ہے،انہوںنے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 211 کے مطابق جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں کوئی بھی کورٹ مداخلت نہیں کر سکتا، البتہ اگر حکومت کو ججز سے شکایت ہو تو اس کے لئے صدارتی ریفرنس جب کہ عام آدمی سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل میں شکایت درج کروا سکتا ہے۔ان کہنا تھا کہ قادر پٹیل کی پریس کانفرس پر دکھ ہوا، آج ملک معاشی دیوالیہ کے قریب پہنچ چکا ہے لیکن آپ عمران خان کا یورین سیمپل لے کر بیٹھے ہیں۔

متعلقہ خبریں