اہم خبریں

سیکیورٹی خدشات، توشہ خانہ مقدمے کی سماعت اب جوڈیشل کمپلیکس میں ہوگی

اسلام آباد(نیوزڈیسک) سیکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف درج توشہ خانہ فوجداری کیس کی سماعت اسلام آباد کچہری کے بجائے سیکٹر جی الیون میں قائم جوڈیشل کمپلیکس میں ہوگی۔ چیف کمشنر نے خصوصی اختیارات کے تحت ایک کیس کیلیے عدالت منتقل کرنے کی منظوری دے دی جس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال ایف 8 کچہری کے بجائے جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کیخلاف درج مقدمے کی سماعت کریں گے۔کچہری میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر عدالت کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب عمران خان کی عدالت میں پیشی کے باعث اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے، جس کے تحت اسلحے کی نمائش اور ساتھ لے کر چلنے پر پابندی ہوگی جبکہ گاڑی سڑک پر نکلنے والوں کی لیے ملکیتی ثبوت رکھنا لازمی ہوگا۔عدالتی پیشی کے سبب ٹریفک پلان جلد ہی جاری کردیا گیا، جس میں شہریوں کو جی الیون اور جی ٹین کی طرف غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ شہری کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور چیکنگ کے دوران پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔علاہ ازیں پولیس ترجمان نے کہا کہ شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق اطلاع فوری پکار 15 پر دیں۔تحریک انصاف کے چئیرمین سابق وزیر اعظم عمران خان کی پیشی پر اسلام آباد پولیس نے سکیورٹی پلان تیار کر لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق عمران خان کی سکیورٹی کے لئے دو ڈی آئی جی 3 ایس ایس پی، 4 ایس پی 15 اے ایس پی اور ڈی ایس پی تعینات ہوں گے۔ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کے 30 انسپکٹر اور چالیس پلاٹون تعینات ہوں گی، اسکے علاوہ رینجرز اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی جائے گی۔عمران خان کی ممکنہ پیشی کے مدنظراسلام آباد جوڈیشل کمپلکس میں سیکیورٹی انتظامات کئے جا رہے ہیں، جس کے تحت اطراف میں کنٹینرز لگا کر تمام راستوں کو سیل کردیا گیا جبکہ ایک ہی داخلی اور خارجی راستہ بنایا گیا ہے۔عمران خان ریلی کی صورت میں اسلام آباد راونہ ہوں گےپی ٹی آئی کے چئیرمن عمران خان صبح 8 بجے زمان پارک سے اسلام آباد روانہ ہوں گے، پی ٹی آئی نے کارکنوں کو صبح 7 بجے زمان پارک پہنچنے کی کال دے دی۔پارٹی ذرائع کے مطابق عمران خان صبح ریلی کی قیادت کرتے ہوئے لاہور سے اسلام آباد جائیں گے۔

متعلقہ خبریں