کراچی(اے بی این نیوز )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ججوں کو نیب کے دائرہِ کار میں لانے کے لیے قانون میں ترمیم پیش کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش بہت سارے مسائل کا حل آئین میں موجود ہے ۔ میڈیا سیل بلاول ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کےمطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے دستورِ پاکستان کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے کراچی میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو 1973 کے آئین کے بانی ہیں، جس پر ہم سب کو فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین ہر شہری کو اس کے حق کو تحفظ اور ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئین بہت خوبصورت ہے، جو پاکستان کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ایک وفاقی ملک ہے تو یہ آئین ہمیں وفاقی نظام دیتا ہے، پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، تو ہمارا آئین ایک اسلامی آئین ہے، اور پاکستان جمہوریت پسندوں کا ملک ہے تو ہمارا آئین جمہوری آئین ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب سے پاکستان کا آئین بنا ہے، اس پر مسلسل حملے اور ڈاکے مارے گئے ہیں کیونکہ کچھ قوتوں سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ عوام کو ان کے حقوق ملیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے ادوار میں ہونے والے نقصانات کا بوجھ قوم کو تاحال اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2008 سے 2013 تک ایک ایسا دور تھا، جس سے لگتا تھا کہ جیسے پورا معاشرہ میچوئر ہوگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یاد ہے، جس دن اٹھارویں ترمیم منظور ہوئی تھی تو ایک انگریزی روزنامہ نے سرخی لگائی تھی کہ پاکستان کے سیاستدان بالاخر میچوئر ہوگئے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ 2008 سے 2013 تک کا دور اس لیے امید کا دور تھا، کیونکہ اس سے پہلے ملک میں تقسیم بہت تھی۔ اس دور میں سیاسی جماعتیں اس نتیجے پر پہنچیں تھیں کہ جب تک ہم آپس میں لڑتے رہیں گے، آئین اور جمہوریت ہمیشہ خطرے میں رہیں گے اور ملک ترقی نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے اپنے اس وقت کے مخالفین کے رویے کو بھلا کر کہا تھا کہ ہم میثاق جمہوریت پر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہم آہنگی کی بنیاد پر، حکومت میں آنے کے بعد ہم نے مسلم لیگ (ن) یا دوسرے مخالفین کو جیل نہیں بھیجا اور جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو انہوں نے بھی اس روایت پر عمل کیا۔ میثاق جمہوریت کے بعد سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفتوں کو گنواتے ہوئےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کی عوام پر توجہ مرکوز کر سکے، ہم اٹھارویں ترمیم پاس کر سکے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لا سکے، ناردرن ایریاز کو صوبہ گلگت بلتستان بناسکے، اور این ڈبلیو ایف پی کے نام سے موجود صوبے کو خیبر پختونخوا بنا دیا۔ وزیر خارجہ نے کہا اس طرح کی ہم آہنگی کی وجہ سے غیر جمہوری قوتوں کے لیے گنجائش بہت کم تھی، لیکن پھر ایک سلیکٹڈ کو لانچ کیا گیا۔ اس سلیکٹڈ کو لانچ صرف اس لیے کیا گیا تاکہ اُس ہم آہنگی” کو توڑا جائے۔ مُک مکا کا پروپیگنڈہ بھی کیا گیا۔ صرف اس لیے کہ غیرجمہوری قوتوں کو زیادہ سے زیادہ جگہ مِل سکے اور ان کو ایک پراکسی وزیراعظم مل سکے۔ ایک ایسا وزیراعظم ہو جو قوم کے مسائل میں کوئی دلچسپی نہ لے۔ جو پارلیمان، جمہوریت اور حتیٰ کہ معیشت میں بھی دلچسپی نہ لے۔ وہ یہ سمجھے کہ وہ وزیراعظم اس لیے نہیں بنا کہ وہ ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں دیکھے۔ وہ وزیراعظم صرف اس لیے بنے تاکہ وہ خود کو اور اپنے خاندان کو فائدہ پہنچا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس دن وہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو ہٹانے میں کامیاب ہوئے تھے، تو وہ 10 اپریل 2023 تھا یہ وہی دن تھا جب 1973میں ہمارا متفقہ آئین بھی منظور ہوا تھا۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس شخص کو اس لیے اقتدار میں لایا گیا تھا کہ وہ صرف نظام کے خلاف سازش نہیں تھا، بلکہ آئین کے خلاف بھی سازش تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اٹھارویں ترمیم کے بارے میں کہتے ہیں کہ سب کچھ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے۔ ان لوگوں کا مسئلہ درحقیقت اٹھارویں ترمیم نہیں، بلکہ 1973 کا آئین ہے، جس وہ پہلے دن سے نہیں مانتے اور آج بھی نہیں مانتے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان نے ہر ادارے کو تقسیم کردیا ہے۔ سیاست کو اس حد تک تقسیم کردیا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایک چینل کھولو تو ایک پاکستان اور دوسرا چینل دیکھو تو وہاں دوسرا پاکستان نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں وہ شخص تو چلا گیا، لیکن وہ سوچ وہیں موجود ہے۔ اب نہیں معلوم ان تین سالوں میں ہونے والے نقصان کے اثرات کب تک بھگتتے رہیں گے کہ اب ملک چلانا مشکل ہوگیا ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے استفسارکیا کہ انصاف دینے والا ادارہ اگر آپس میں الجھے گا توعوام کو انصاف کیسے دے گا؟ انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی، آئینی اور معاشی بحران سے گذر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آپس میں لڑتے رہیں گے، تو عام آدمی کا نقصان ہوتا رہے گا۔ عام آدمی کا سب سے اہم مسئلہ معیشت ، مہنگائی، بھوک، غربت اور بے روزگاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آپس میں لڑتے رہیں گے تو دہشتگرد بھی فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر کسی دوسرے ملک میں ایسے حالات ہوتے، تو سب کہتے کہ آپس کی لڑائی چھوڑ یئے آئیں بیٹھیں مسائل حل کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو درپیش بہت سارے مسائل کا حل آئین میں موجود ہے۔ انہوں نےکہا کہ عوام آج بھی پارلیمان اور عدلیہ کی جانب دیکھ رہے ہیں، لیکن امیدیں کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی انتظار میں ہیں کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے متعلق ریفرنس کی سماعت ہو، لیکن ہمیں کوئی جواب نہیں ملتا۔ لیکن زمان پارک کے وزیراعظم کو ٹانگ میں تکلیف ہو تو ایک ہفتہ انتظار کرکے اور پٹیشن پر جعلی دستخط ہوں تو بھی اسے ضمانت دے دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسا نظام اب نہیں چلے گا اور نہ ہی ہم برداشت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ شہید بینظیر بھٹو کی حکومت ہو تو اخبار کے ایک ایڈیٹوریل پر ختم کردو، لیکن عمران خان کی حکومت کو بچانے کے لیے آئین کوازسرِ نو لکھنا پڑے تو وہ بھی کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے متعلق پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ یہ سیاسی انجنیئرنگ کے لیے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نیب قانون میں دیگر جماعتیں جو بھی ترامیم کریں، لیکن میں خود ایک ترمیم خود پیش کروں گا کہ اگر نیب کو قائم رکھنا ہے تو اس کا اطلاق عدلیہ پر بھی ہونا چاہیے، چاہے وہ حاضر سروس ہوں یا ریٹائرڈ ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن ہر جگہ ہے پاکستان پیپلز پارٹی مقدس گائے والے کسی قانون کی مخالفت کرے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمہوریت کے لیے تاریخی جدوجہد کرنے پر جیالوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آئین ہم نے بنایا تھا، اسے ہم ہی بچائیں گے۔















