لاہور(نیوزڈیسک)سابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں آئین کی پاسداری نہیں کی جاتی۔ جب ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز کریں تو تنازع پیدا ہوتا ہے اور ملک میں کافی عرصے سے ایسا ہو رہا ہے۔موجودہ حکمران چیلنجز کا سامنا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔لاہور ادبی میلے کے دوسرے روزپاور فیلیئر پاکستان سرچ فار اسٹیبلٹی’ کے نام سے منعقدہ ایک نشست میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو سیاسی کلاس سامنے آ رہی ہے وہ لوگوں کو حقیقی ترجمانی نہیں کرتی۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں 75 برسوں میں ججوں، جرنیلوں اور بیوروکریٹس پر بات کی جاتی ہے۔ ملک کی سیاسی تاریخ میں صرف چار سیاسی لیڈر آئے ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے نشست کے میزبان اور فنانشل ٹائمز جنوبی ایشیا کے بیورو چیف جان ریڈ سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے سیاسی حالات پر عدلیہ، ان کے فیصلے اور اسٹیبلشمنٹ بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیات دانوں کو نااہل کیا گیا ہے۔ ملک میں کرپشن ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ صرف کرپشن واحد مسئلہ ہے تو یہ بات درست نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں سابق وزیرِاعظم نے کہا کہ آج کل لوگ منتخب ہو کر ایوان میں پہنچ جاتے ہیں۔ وزرا بن جاتے ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ادارہ چلانا کیسے ہے۔ان کے بقول سیاست دان لوگوں کو سیاسی نظام کا حصہ بنانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ایوان میں موجود لوگ اس وقت موجودہ سیاسی نظام میں چیلنجز کا سامنا کرنے کی اہلیت نہیں ۔شاہد خاقان عباسی نےکہا کہ سخت فیصلوں کے نتائج انتخابات میں آتے ہیں۔ لیکن سیاسی حکومتیں سخت فیصلے لینے سے گھبراتی ہیں۔ ان کے بقول تین صاف شفاف انتخابات پاکستان کے نظام کو ٹھیک کردیں گے۔سابق وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج مہنگائی کی شرح 35 فی صد ہے۔ حکومت کے پاس قرضوں کی واپسی کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ ڈالر کی قیمت روزانہ کی بنیادوں پر اوپر جا رہی ہے اور ملک میں اِس وقت بہت زیادہ ڈالر نہیں ہیں۔















