کوئٹہ (اے بی این نیوز )بلوچستان اسمبلی کااجلاس پونے دو گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی میر عارف جان محمد حسنی نے کہا کہ گزشتہ روز بارکھان میں خاتون سمیت تین افراد کے قتل کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ مذہب، قانون اور رواج کے منافی عمل ہے ایوان کی کاروائی روک پر واقعہ پر بحث کی جائے۔صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری نے بارکھان میں تین افراد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خاتون سمیت تین افراد کے قتل کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خاتون کی ویڈیو کافی دن سے سوشل میڈیا پر چل رہی تھی سینیٹ میں بھی اس واقعہ پر بات ہوئی لیکن ہم سب خاموش اور بے حس بنے رہے اس واقعہ کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ 18دسمبر کو وزیر داخلہ نے بھی اس حوالے سے خط لکھا لیکن کاروائی نہیں ہوئی اگر بروقت کاروائی ہوتی تو آج یہ واقعہ پیش نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ اسلام اور بلوچی رسم و رواج میں قرآن کے بعد عورت کا احترام ہے عورتوں کی وجہ سے جنگ بندی ہوجاتی ہے لیکن اس مقام کے باوجود ایک عورت کو بے دردی سے قتل کیا گیا جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار لوگوں کو قتل کرنا رواج میں نہیں ہے وزیراعلیٰ بارکھان واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیں اور جو بھی اس میں ملوث ہے اسے سزا ملنی چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کے دیگر 4بچوں کو بازیاب کروایا جائے لواحقین لاشوں کو کوئٹہ لارہے ہیں میری ان سے گزارش ہے کہ واقعہ کو قومی رنگ نہ دیا جائے اس واقع میں جو بھی ملوث ہے اسے سزا ہونی چاہیے۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس واقع کا نوٹس لیکر تحقیقات کروائیں۔انہوں نے کہا کہ بارکھان واقعہ کے خلاف ایوان سے احتجاجاً واک آئوٹ بھی کیا۔جمعیت علماء اسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے کہا کہ قتل ہونے والی خاتون ہماری ماں بہن تھی جو بھی اس واقع میں ملوث ہے اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور پھانسی کی سزا دی جائے۔انہوں نے بھی بارکھان واقع کے خلاف ایوان سے واک آئوٹ کیا جس پر ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے صوبائی مشیر مٹھاخان کاکڑ اور میر عارف جان محمد حسنی کو دنوں ارکان کو ایوان میں لانے کے لئے بھیجا جو واک آئوٹ کرنے والے اراکین کو منا کر ایوان میں لائے۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بی این پی کے رکن احمد نواز بلوچ نے کہا کہ بی این پی بارکھان واقع کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتی ہے ہم نے بار ہاایسے واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔بارکھان واقعہ بلوچ پشتون اور اسلامی روایا ت کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل کے لئے میڑھ،مرکہ کیا جاتا ہے مگر کسی کو قتل نہیں کیا جاتا ہم نے کوئٹہ سے لاپتہ کی گئی خاتون کے لئے سی ٹی ڈی کے خلاف احتجاج اور خاتون بازیاب ہوئی اب ایک اور خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے اگر کسی نے کوئی غلطی کی ہے تو اسے سامنے لایا جائے چادر اور چار دیواری کی پامالی بند ہونی چاہیے۔دعا ہے کہ بارکھان جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ بی این پی(عوامی) کے صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ ہم قبائلی اور نیم جاگیردانہ نظام میں زندگی گزار رہے ہیں ماضی میں سردار اسے بنایا جاتا تھا جو بہادر، سخی اور دیگر خصوصیات کے حامل ہوتا تھا لیکن آج یہ نظام ایک مافیا کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مجرموں کا تعین کرے بتایا جائے کہ بارکھان میں قتل ہونے والے افراد کا قصور کیا تھا۔نجی جیل میں لوگوں کی زندگیاں ختم کی جارہی ہیں ہمارا ضمیر پکار رہا ہے کہ صوبے میں کیا ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مظلوموں کے ساتھ ذیادتی ہوئی ہے مجروموں کو کٹہرے میں لایا جائے ایسا نہیں ہوسکتا کہ باڈی گارڈ کسی کو بھی قتل کریں،گھر لوٹیں اگر یہ سب ہونا ہے تو پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے کس بات کی تنخواہ لے رہے ہیں کہ جب وہ عوام کا تحفظ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کی آڑ میں پیرا شوٹر آتے ہیں اور جمہوریت کو نقصان پہنچاتے ہیں لوگوں پر ظلم وجبر اور انہیں قتل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس علاقے میں صحت، تعلیم کی سہولیات میسر اور وہاں کا غریب خوش ہو تو ہم اسے سردار مانتے ہیں۔بی این پی عوامی کے صدر کی حیثیت سے مطالبہ کرتاہوں کہ اصل مجرمان کو کٹہرے میں لایا جائے۔ایوان میں اظہار خیال کرتے …















