سرینگر ( اے بی این نیوز) مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کو اس وقت سیاسی دھچکا لگا جب اسمبلی نے مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کرلی۔
رپورٹ کے مطابق قرارداد وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیش کی، جس میں نئی دہلی سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد بحث کے بعد صوتی ووٹ سے منظور کی گئی۔
بی جے پی ارکان نے قرارداد کی مخالفت کی اور ووٹنگ سے قبل ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ قرارداد میں اسے مزید کارروائی کے لیے بھارتی حکومت کو بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے دوران سیاسی جماعتوں کے ارکان نے اپنے مؤقف کا اظہار کیا، جبکہ بی جے پی ارکان نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور، جبکہ بی جے پی احتجاج اور واک آؤٹ تک محدود رہی۔ یہ قرارداد نئی دہلی کے سامنے ایک واضح سیاسی مطالبہ ہے کہ جموں و کشمیر کو دوبارہ مکمل ریاستی حیثیت دی جائے۔ کشمیر کی سیاسی آواز کو محض احتجاج اور رکاوٹ سے دبایا نہیں جا… pic.twitter.com/9x1O5aEhjK
— PakDefenders (@Pak_Defenders_) September 29, 2026
دوسری جانب میر واعظ عمر فاروق نے کشمیری سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی اور آئینی حقوق سے متعلق مطالبات کے لیے متحد ہوں۔
یاد رہے کہ جموں و کشمیر اسمبلی اس سے قبل بھی خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور کرچکی ہے۔
مزید پڑھیں:لانگ مارچ فوری ملتوی کیا جائے، شوکت یوسفزئی نے پارٹی چیئرمین کو خط لکھ دیا















