اسلام آباد (اے بی این نیوز) وفاقی حکومت نے بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں اور ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے ملک بھر میں ’’اسمارٹ پیٹرولیم لاک ڈاؤن‘‘ سمیت مختلف تجاویز پر غور شروع کردیا ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق حکومت کے زیرِ غور ایک اہم تجویز کے تحت سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے کے دوران **چار دن کام جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تین دن تعطیل رکھنے کی تجویز شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملازمین کی روزانہ آمدورفت، ٹرانسپورٹ کے استعمال اور پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی کھپت میں کمی لانا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت سرکاری ملازمین کے لیے **روٹیشنل ورکنگ سسٹم** اور مزید شعبوں میں **گھر سے کام** کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی، بعض مارکیٹوں کو ہفتے میں تین دن بند رکھنے اور کاروباری اوقات محدود کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔
یہ تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اوگرا کے ریکارڈ کے مطابق 12 ستمبر 2026 سے نئی پیٹرولیم قیمتوں کا نوٹیفکیشن نافذ ہے، جبکہ حکومت ایندھن کے استعمال اور درآمدی دباؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں بھی زیرِ بحث آیا، تاہم چار روزہ ورک ویک اور تین روزہ ہفتہ وار تعطیلات ابھی حتمی طور پر نافذ نہیں کی گئیں ۔ حتمی فیصلہ اور باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی دفاتر، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز کے نئے شیڈول کی حتمی تفصیلات سامنے آئیں گی۔
اگر یہ تجاویز منظور ہوتی ہیں تو ملک بھر میں دفتری اوقات، تعلیمی سرگرمیوں، مارکیٹوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے معمولات میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔
مزیدپڑھیں: بائیک چلانے والوں کے لئے خوشخبری، 100 روپے سستا پیٹرول اب بغیر شرط















