اہم خبریں

ایران امریکا کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

ایران امریکا کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

عالمی منڈی (اے بی این نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت کی امیدیں کم ہونے اور آبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی آمدورفت سست پڑنے کے باعث عالمی منڈی میں پیر کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

رپورٹس کے مطابق جغرافیائی سیاسی خطرات دوبارہ نمایاں ہونے کے باعث برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 6 سینٹ اضافے سے 88.57 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل 82.14 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔ اماراتی مربن خام تیل کی قیمت 89.42 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

دونوں اہم بینچ مارک گزشتہ ہفتے بھی 5 فیصد سے زیادہ مہنگے ہوئے تھے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں آبنائے ہرمز میں ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کے زیر انتظام ٹینکرز اور سعودی آرامکو کی ایک ریفائنری پر حملے شامل ہیں۔

سنگاپور میں فلپ نووا کی سربراہ برائے مارکیٹ انسائٹس پریانکا سچدیوا کے مطابق تیل کی قیمتیں اگست کے آغاز میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح سے تقریباً مکمل طور پر بحال ہوچکی ہیں، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان مستقل حل کی امیدیں کم ہونے کے بعد مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی خطرات کا پریمیم دوبارہ شامل ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافے کی گنجائش محدود ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے یا ٹینکرز اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بڑا نقصان پہنچنے کی صورت میں صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔

آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی
شپنگ ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

Kpler کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کو صرف 5 کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اتوار کو کوئی جہاز رجسٹر نہیں ہوا۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر 31 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

متحدہ عرب امارات نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جمعہ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ADNOC کے زیر انتظام ایک تیسرے بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا۔ اماراتی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس سے قبل متحدہ عرب امارات جمعرات کی شام پیش آنے والے دو دیگر واقعات کا الزام بھی ایران پر عائد کرچکا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے آخر میں کہا کہ ایران نے تاحال امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری تنازع کے دوران امریکی عوام پر قدرے مہنگا پٹرول قبول کرنے پر زور دیا ہے، جس کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں امریکا ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر نظر مزید گہری ہوگئی ہے۔
مزید پڑھیں‌:ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی، محکمہ موسمیات کا الرٹ

متعلقہ خبریں