اہم خبریں

ایم کیو ایم مرکز میدان جنگ بن گیا،دو گروپوں میں تصادم، کارکنان زخمی

ایم کیو ایم مرکز میدان جنگ بن گیا،دو گروپوں میں تصادم، کارکنان زخمی

کراچی (اے بی این نیوز) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، جہاں خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال گروپ کے حامیوں کے درمیان بہادرآباد مرکز کے قریب تصادم، ہاتھا پائی، پتھراؤ اور ہوائی فائرنگ کے واقعات پیش آئے، جن میں کم از کم 3 افراد زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق بہادرآباد میں پارٹی اجلاس کے بعد دونوں گروپوں کے کارکن آمنے سامنے آ گئے۔ اس دوران ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی، ہاتھا پائی اور پتھراؤ ہوا، جبکہ مشتعل افراد کی جانب سے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہادرآباد میں پارٹی رہنماؤں کے اجلاس کے بعد اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ ان کے مطابق ایم پی اے اعجاز الحق اور رہنما ذاکر کے ساتھ دوسرے گروپ کے کارکنوں نے ہاتھا پائی کی، جبکہ منگلا شرما اور سبین غوری کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما امین الحق نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے ان کا ایک کارکن زخمی ہوا، جبکہ پتھراؤ کے نتیجے میں بھی متعدد کارکن زخمی ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی دفتر میں شدید توڑ پھوڑ کی گئی اور دفتر کا ڈی وی آر بھی ساتھ لے جایا گیا۔

امین الحق کا کہنا تھا کہ پیش آنے والے واقعات کے بعد معاملہ مزید اسی انداز میں چلنا ممکن نہیں رہا اور اس حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل جلد طے کیا جائے گا۔

ادھر صورتحال کشیدہ ہونے پر ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار بھی بہادرآباد مرکز پہنچ گئے، جبکہ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
مزیدپڑھیں : آزاد کشمیر انتخابات،غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج سامنے آگئے

متعلقہ خبریں