نیویارک (اے بی این نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی، یوکرین جنگ کے باعث سپلائی میں تعطل اور عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق اس ہفتے مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں خام تیل کے فزیکل کارگوز کی قیمتیں گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ کچھ کارگوز کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی، جو عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی طلب اور محدود رسد کی عکاسی کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور یوکرین سے متعلق جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے خریدار متبادل ذرائع سے خام تیل خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ فوری فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
عالمی معیار کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت بھی جمعرات کو بڑھ کر 105.70 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو مئی کے آخر کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح، خام تیل کی قیمت جون کے اوائل کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
تیل کے معروف بروکر تاماس ورگا کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں اور خریداروں کی توجہ ایک بار پھر سپلائی کے خطرات پر مرکوز ہوگئی ہے جس سے قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
مزید پڑھیں:سونا مہنگا، چاندی سستی، آج کی تازہ ترین اپڈیٹ















