اسلام آباد (اے بی این نیوز) وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
قومی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں تیل کی قیمتوں سے متعلق فیصلہ کوئی آسان حل نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مارجن 8 فیصد سے بڑھایا جائے، جنگ سے پہلے جو پیٹرولیم لیوی تھی آج اس سے کم ہے۔،
ایک طرف قیمتوں کا بھونچال ہے اور دوسری طرف پیٹرول پمپس کا محاذ کھڑا ہوگا تو مسائل بڑھیں گے، مارکیٹس شاید یہ دیکھ رہی ہیں کہ آگے پیٹرول دستیاب نہ ہو۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں اکیلے کچھ بھی اقدامات نہیں کیے جاسکتے، یومیہ بنیادوں پر پیٹرول کی قیمتوں کا تعین کیا جارہا ہے، ٹرانسپرنسی کے ساتھ تیل کی قیمتوں سے متعلق تفصیلات دے رہے ہیں۔
ریفائنری پالیسی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ریفائنری کو چلوا کر خام تیل لا کر مقامی ڈیزل لوگوں کو دے رہے ہیں، ہم ڈیزل امپورٹ نہیں کرنا چاہتے، ہم نے ریفائنریز کو اپ ڈیٹ کرنے کی پالیسی بھیج دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2002 تک ملک میں ریفائنریز آئی پی پی ماڈل پر چلتی تھیں، ملک میں اس وقت یہ ریفائنریز نہ ہوتیں تو بحران میں مزید شدت آجاتی، ریفائنری پالیسی میں وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈی ایم ڈیوٹی ہر 6 ماہ میں 2.5 فیصد کم کرینگے۔
قبل ازیں پٹرولیم ڈیلرز کے ساتھ پریس کانفرنس میںں وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، اس وقت خام تیل کی منڈیوں میں بھونچال ہے، مجبوری میں تیل کی قیمتیں بڑھانا پڑ رہی ہیں، وزیر اعظم، فیلڈ مارشل جنگ بندی کی بھرپورکوششیں کررہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اے آئی سے لیس مائیکرو ڈرون تیار، اڑتے مچھروں کا تعاقب کرکے نشانہ بنائے گا















