کراچی (اے بی این نیوز) حکومت کی نئی آٹو پالیسی کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے، تاہم ٹیکس سے متعلق تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مزید مشاورت کے باعث اس کے اعلان میں تاخیر کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی کوشش تھی کہ نئی آٹو پالیسی یکم جولائی سے نافذ کی جائے، تاہم اب اسے اگست کے پہلے ہفتے میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں آئی ایم ایف نے 800 سی سی تک کی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کرکے ساڑھے 12 فیصد کرنے کی تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اسی وجہ سے وزارت خزانہ، وزارت تجارت، وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت قانون کے درمیان مزید مشاورت جاری ہے، جبکہ آئی ایم ایف سے بھی ٹیکس سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق نئی آٹو پالیسی کو پانچ سالہ طویل مدتی حکمت عملی کے تحت ترتیب دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد آٹو صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور مقامی صنعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نئی پالیسی میں اقوام متحدہ کے 62 حفاظتی معیارات کو تمام گاڑیوں کے لیے مرحلہ وار لازمی بنانے پر غور کر رہی ہے تاکہ پاکستان میں تیار اور فروخت ہونے والی گاڑیوں کے حفاظتی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
نئی آٹو پالیسی میں ماحول دوست ٹیکنالوجی کو بھی خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ حکومت ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کے فروغ کے لیے اقدامات کرے گی، جبکہ روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری بتدریج کم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق ٹیکس سے متعلق حتمی فیصلے آئی ایم ایف سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد کیے جائیں گے، جس کے بعد نئی آٹو پالیسی کو منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:پاک امریکا تجارتی معاہدہ،بڑی پیش رفت سامنے آگئی















