اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ بجٹ تجاویز کے مطابق آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں کمی، اضافی سرچارج کا خاتمہ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ شامل ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ملازمین کو درپیش معاشی مشکلات سے آگاہ ہے، اسی لیے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس نظام میں نرمی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مزید برآں 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد جبکہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والوں کے لیے 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت نے تنخواہ دار افراد پر عائد اضافی سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جو کافی عرصے سے ملازمین کا اہم مطالبہ تھا۔
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاکہ کم آمدنی والے کارکنوں کی قوت خرید بہتر بنائی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات ملازمین کی مالی مشکلات میں کمی لانے اور معیشت میں سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔















