لاہور (اے بی این نیوز) عالمی سطح پر امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات توانائی کی منڈیوں پر بھی محسوس ہونے لگے ہیں جس کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں اور خریداروں کو پریشان کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی جزیرے قشم پر امریکی حملوں اور ایران کی جانب سے جواب میں کویت اور بحرین کی سمت میں میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوؤں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں بھی کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوسکی جس سے بازاروں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
بدھ کی صبح ابتدائی ٹریڈنگ میں برینٹ کروڈ فیوچر $1.05، یا 1.09 فیصد بڑھ کر $97.05 فی بیرل ہوگیا۔
اسی طرح یو ایس کروڈ آئل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت 1.01 ڈالر بڑھ کر 95 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ اماراتی مربن خام تیل کی قیمت بھی 96 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا اس میں شدت آئی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں:بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر















